ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بچھڑے کو بچانے کیلیے بہادر شخص اپنی جان پر کھیل گیا

اِس دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو انسان تو انسان، کسی جانور کی جان بچانے کے لیے بھی اپنی جان داؤ پر لگانے سے گریز نہیں کرتے۔ بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ وہاں سیلاب کے دوران ایک بچھڑے کو بچانے کے لیے ایک بہادر اور حیوان دوست انسان نے اپنی زندگی بھی داؤ پر لگانے سے گریز نہیں کیا۔

آسام میں کئی روز سے موسلا دھار بارشیں ہو رہی ہیں۔ مون سون کی غیر معمولی بارشوں نے ریاست کے کئی علاقوں میں سیلابی کیفیت پیدا کردی ہے۔ اب تک 52 سے زائد اموات ہوچکی ہیں اور سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 25 لاکھ سے زائد ہے۔ کئی علاقے پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ دیہات کا معاملہ بہت خطرناک شکل اختیار کرگیا ہے۔ کھڑی فصلیں تباہ ہونے سے کسانوں کا کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔

سیلابی ریلوں نے کئی علاقوں کو گھیر رکھا ہے۔ لاکھوں افراد نے گھروں سے نکل کر محفوظ علاقوں میں ڈیرے ڈالے ہیں۔ جب انسانوں کا یہ حال ہے تو کسی کو کیا پڑی ہے کہ کسی چھوٹے سے بچھڑے کو بچانے کے لیے آگے آئے اور اتنا ہی نہیں بلکہ اُسے بچانے کی کوشش میں اپنے وجود کو بھی خطرے میں ڈالے۔

آسام کے ضلع دلبرو گڑھ کے قصبے دُلیا جان کے نواح میں پورا علاقہ بارش اور سیلاب کے پانی میں ڈوب گیا۔ ایسے میں چند ماہ کا بچھڑا بھی سیلابی ریلے کی نذر ہونے لگا۔ یہ دیکھ کر ایک باہمت شخص آگے بڑھا اور سیلابی پانی میں گردن تک اتر کر بچھڑے تک پہنچا۔ بچھڑا ایک درخت کی ٹہنیوں اور جھاڑیوں میں پھنسا ہوا تھا۔ اگر چند لمحات کی تاخیر ہو جاتی تو وہ بھی بہہ جاتا اور پھر اُس کا بچنا ناممکن ہی ہوتا۔

اِس بہادر شخص نے بچھڑے کو خاصی مشقت کے بعد جھاڑیوں سے نکالا اور اس کوشش میں خود بھی ڈوبتے ڈوبتے بچا۔ تین چار ماہ کا بچھڑا ہاتھ پاؤں چھوڑ کر ڈھیلا پڑچکا تھا۔ جان بچنے پر اُس کی خوشی قابلِ دید تھی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں