ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سندھ لیبر کوڈ کو مسلط کرنے کیخؒاف محنت کش سراپا احتجاج ہیںِشکیل احمد شیخ

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)

NLFسندھ کے صدر شکیل احمد شیخ ، جنرل سیکرٹری محمد عمر شر ،حیدرآباد زون کے صدر عبد القیوم بھٹی، سنیئر نائب صدر مبین راجپوت، جنرل سیکرٹری اعجاز حسین ، انفارمیشن سیکرٹری محمد احسن شیخ اور دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ سندھ لےبر کوڈ 24 کو مسلط کرنے کے خلاف سندھ کے تمام فےڈرےشن اور محنت کش سراپا احتجاج ہےں اور پورے سندھ مےں اس کے خلاف تحرےک جاری ہے، اسی دوران حکومت سندھ نے اےک لےٹر کے ذرےعے تمام لےبر فےڈرےشن اور صنعت کاروں کے نمائندوں اور محنت کشوں کے ذمہ داروں کو تاکےد کی ہے کہ 7 دن کے اند ر اندر لےبر کوڈ پر سفارشات تےار کر کے حکومت سندھ کو ارسال کردےں ۔شکےل احمد شےخ نے کہا کہ حکومت سندھ نے سندھ لےبر کوڈ تےار کرنے مےں مہےنوں کام کےا اور محنت کشوں اور تمام فےڈرےشنوں کو پابند کےا جا رہا ہے کہ 7 دن کے اندر اندر سفارشات جمع کروائےں ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہےں کہ حکومت سندھ اس اقدام سے باز رہے اور کم از کم چھ ماہ کے وقت کا تعےن کر کے محنت کشوں کے حقےقی نمائندوں اور لےبر ڈپارٹمنٹ کے افسران اور صنعتکاروں کے درمےان ورکنگ رےلشن شپ اور سہ فریقی کانفرنس کے ذرےعے تمام قوانےن کو از سر نو سمجھ کر اس پر قانون سازی کی جائے، عجلت مےں کسی بھی قسم کی قانونی سازی سندھ کے محنت کشوں کےلیے انتہائی تباہ کن ہوگی جبکہ حکومت سندھ جس کا نعرہ ہے روٹی کپڑا اور مکان اور مزدورں کی نمائندہ جماعت کہلاتی ہے تو اس کو چاہےے کہ وہ محنت کشوں پر نشتر چلانے کے بجائے قوانےن کو بہتر کرنے کے لیے مشاورت کا عمل شروع کرےں ۔شکےل احمد شےخ نے اس امر پر بھی تشوےش کا اظہار کےا کہ حکومت سندھ کے محکمہ محنت کے تمام افسران بشمول سےکرٹری لےبر اس قانون مےں مہارت نہےں رکھتے ،کےا وجہ ہے کہ حکومت سندھ نے رجومل کو اپنا اےڈوائزر مقرر کےا ہے جس سے ہمےں تشوےش ہے کہ رجومل اپنے مفادات اور اپنا اےگرےمنٹ مکمل کر کے چلے جائےں گے اور آئندہ سندھ گورنمنٹ کا محکمہ لےبر اس قانون پر کام کرےگا ،لہذا حکومت سندھ کو چاہےے کہ محکمہ لےبر کے افسران کو اس قوانےن پر برےفنگ کے لیے تےار کےا جائے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں