غزہ /تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ میں نصیرات کیمپ میں قائم اسکول پر حملے کے نتیجے میں قرآن پڑھنے میں مصروف16 فلسطینی بچے شہید ہوگئے جبکہ بچوں سمیت75 سے زاید افراد زخمی ہوگئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے ہفتے کے روز وسطی غزہ میں بے گھر فلسطینی خاندانوں کو پناہ دینے والے فلاحی ادارے کے اسکول پر حملہ کیا۔اس حوالے سے غزہ سول ایمرجنسی سروس کے ترجمان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں بعض کی حالت انتہائی
تشویش ناک ہے جس کے باعث شہادتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔غزہ سول ایمرجنسی سروس کے ترجمان محمود بسال نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔وسطی غزہ کے علاقے نصیرات پناہ گزین کیمپ میں واقع اسکول میں جائے وقوع کی وڈیو میں ملبے اور دھویں سے بھری گلی میں بچوں اور بالغوں کو زخمیوں کی مدد کے لیے چیختے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے میں اسکول کی بالائی منزلوں کو نشانہ بنایا گیا جو ایک مصروف بازار کے قریب واقع ہے۔بی بی سی کا ماننا ہے کہ تقریباً 7 ہزار افراد اس عمارت میں پناہ لیے ہوئے تھے۔جائے وقوع پر موجود ایک خاتون سما ابو امصا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ عمارت کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب کچھ بچے کلاس روم میں قرآن پڑھ رہے تھے اور وہ اسی وقت ہلاک ہو گئے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں حملہ حماس کے جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا جو اس جگہ کو اسرائیلی فوجیوں کے خلاف منصوبہ بندی اور حملوں کے لیے ایک خفیہ ٹھکانے کے طور پر استعمال کر رہے تھے جبکہ حماس کی جانب سے اسرائیل کے بیان کی تردید کی گئی ہے۔ غزہ جنگ کو 9 ماہ مکمل ہونے پر فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے وڈیو بیان جاری کیا ہے۔اپنے وڈیو بیان میں ابو عبیدہ کا کہنا تھا کہ القسام بریگیڈز کی عسکری قوت مضبوط ہے اور وہ ہر محاذپر دشمن کو نقصان پہنچا رہے ہیں ‘ ’معرکہ طوفان الاقصیٰ‘ صیہونی مظالم کا ردعمل ہے‘ مغربی کنارے، القدس اور غزہ کی پٹی میں قابض افواج کے جرائم اپنی انتہا کو پہنچ چکے ہیں، وہ شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہی ہے اور اسپتالوں، اسکولوں، مساجد اور گرجا گھروں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ابو عبیدہ کا کہنا تھا کہ فلسطینی مزاحمت کار گزشتہ 9 ماہ سے کسی بھی بیرونی مدد کے بغیر اس دشمن کا مقابلہ کررہے ہیں جسے امریکا اور برطانیہ کی حمایت حاصل ہے۔ابوعبیدہ نے کہا کہ القسام بریگیڈز کی تمام 24 بریگیڈز اور دیگر تمام مزاحمتی گروہ دشمن کا مقابلہ کررہے ہیں اور پورے غزہ میں دشمن کو نقصان پہنچارہے ہیں‘ القسام بریگیڈز کی عسکری قوت مضبوط ہے اور جنگ کے دوران بھی ہزاروں مزاحمت کار اس میں شامل ہوئے ہیں۔تل ابیب میں رات کو اسرائیلی حکومت کے خلاف بڑا مظاہرہ کیا گیا جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور مظاہرین کی جانب سے جنگ بندی اور نئے انتخابات کا مطالبہ کیا گیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے بعض مقامات پر آگ لگا کر سڑک بند کر دی جبکہ پولیس نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کرتے ہوئے متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے غیر قانونی طور پر سڑک کو بلاک کیا جس پر ان کے خلاف ایکشن لیا گیا۔ دوسری جانب اسرائیل، حماس جنگ کے 9 ماہ مکمل ہونے پر اسرائیل میں اتوار سے ایک ہفتے کے لیے حکومت مخالف احتجاج کا آغاز کیا گیا، حکومت مخالف رہنما اور جماعتیں ایک ہفتے تک مسلسل چلنے والے ان مظاہروں میں غزہ میں جنگ بندی معاہدے، اسرائیلی مغویوں کی واپسی اور نیتن یاہو حکومت کے استعفے سمیت نئے انتخابات کا مطالبہ کریں گے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو حکومت مخالف قوتوں نے اس احتجاج کو “مزاحمت کا ہفتہ” یعنی مزاحمت کے 7 دن کا نام دیا ہے، ان مظاہروں کے دوران اسرائیل کی بڑی شاہراہوں کو بند کر دیا جائے گا اور ساتھ ہی تل ابیب میں موجود ملٹری ہیڈکواٹر کے سامنے بھی احتجاج کیا جائے گا۔