ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکی صدر زیرِ علاج ہیں؟ نیا قضیہ کھڑا ہوگیا

امریکی ایوانِ صدر نے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ صدر بائیڈن کو رعشے کی بیماری لاحق نہیں اور نہ ہی اُن کا علاج ہو رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے امریکی اور بیرونی میڈیا میں اس حوالے سے نمودار ہونے والی خبروں کو یکسر بے بنیاد قرار دیا ہے۔

امریکی اور یورپی میڈیا آؤٹ لیٹس نے خبر چلائی تھی کہ صدر بائیڈن کو اٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اُنہیں رعشہ بھی لاحق ہے۔ اِسی لیے اُن کے ہاتھ اکثر کانپتے رہتے ہیں اور چلتے ہوئے وہ اچانک لڑکھڑا بھی جاتے ہیں۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس کے رجسٹر سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ اگست سے سالِ رواں کے مارچ تک ایک بڑے نیورو سرجن نے آٹھ بار وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا۔

جو بائیڈن کی صحت کے حوالے سے تشویش کا گراف بلند ہوتا جارہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ جو بائیڈن کی طرف سے تردید اور ہٹھ دھرمی کا گراف بھی بلند تر ہوتا جارہا ہے۔ امریکا میں بہت سے حلقے اور خود ڈیموکریٹس بھی کہہ رہے ہیں کہ صحت کی خرابی کے باعث اب صدر بائیڈن کو انتخابی دوڑ سے الگ ہو جانا چاہیے۔ صدر بائیڈن یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ اُن کی صحت اٗنہیں انتخابی دوڑ میں شامل رہنے کی اجازت نہیں دیتی۔ وہ تقریباً روزانہ ہی یہ بیان داغ رہے ہیں کہ وہ بالکل فِٹ ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دینے کے لیے اُن سے زیادہ موزوں امیدوار اِس وقت امریکا میں کوئی نہیں۔

ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ صدر بائیڈن کا ذہن اچانک بلینک ہو جاتا ہے۔ وہ بیٹھے بیٹھے کھو جاتے ہیں۔ چلنے پھرنے میں الجھن اپنی جگہ مگر ذہن کا بالکل ماؤف ہو جانا تو انتہائی خطرناک ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسی ذہنی حالت میں وہ وائٹ ہاؤس کی اہم میٹینگز کس طور کنڈکٹ کرتے ہوں گے۔

پریس بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرین ژاں پیئر نے جتنی شدت سے رعشہ لاحق ہونے یا اُس کا علاج کرائے جانے کی تردید کی اُس نے صحافیوں کو مزید تشویش میں مبتلا کردیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے وائٹ ہاؤس کے وزٹر لاگ کا جائزہ لے کر بتایا ہے کہ والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر کے نیورو سرجن اور موومنٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر کیوِن کانرڈ نے آٹھ بار وائٹ ہاؤس آئے ہیں۔ وزیٹر لاگ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کیوِن کانرڈ نے جنوری 2024 کے وسط میں وائٹ ہاؤس میں متعین ڈاکٹر کیوِن اوکونر سے ملاقات کی تھی۔ ڈاکٹر کیوِن کانرڈ کی وائٹ ہاؤس آمد کی خبر نیو یارک ٹائمز نے سب سے پہلے 6 جولائی کو شائع کی تھی۔

ڈاکٹر کیوِن کانرڈ نے ایک ایسے شخص کے آدھے سر کے درد کا بھی علاج کیا تھا جو اُس وقت جو بائیڈن کے ساتھ تھا جب وہ، صدر براک اوباما کے عہدِ صدارت میں، ملک کے نائب صدر تھے۔ اُس شخص نے بتایا کہ پالیسی کے تحت ڈاکٹر کیوِن کانرڈ ہر ماہ وائٹ ہاؤس آتے تھے۔

میڈیا بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ڈاکٹر کیوِن کانرڈ کی ماہانہ آمد کی تصدیق سے گریز کیا۔ انہوں نے یہ ضرور تسلیم کیا کہ سالانہ چیک اپ کے پروگرام کے تحت صدر بائیڈن کو ایک نیورو سرجن نے تین بار وزٹ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر کیوِن کانرڈ کی صدر بائیڈن سے ملاقات کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے ڈاکٹر کیوِن وائٹ ہاؤس میں تعینات فوجیوں کے علاج کے سلسلے میں آئے ہوں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں