بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے روس کے صدر ولادیمیر پوٹن سے مذاکرات کے دوران روسی فوج کی طرف سے یوکرین کے خلاف لڑنے والے بھارتی باشندوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔
بہتر معاشی امکانات کی تلاش میں نکلنے والے بہت سے بھارتی باشندے متعدد ممالک سے ہوتے ہوئے روس پہنچ جاتے ہیں اور وہاں سے آگے بڑھنے کے بجائے پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ ایسے کئی بھارتی باشندوں کو دھوکے سے روسی فوج کے کنٹریکٹ میں پھنسادیا جاتا ہے۔
گزشتہ برس ایسے کئی معاملات سامنے آئے تھے کہ بھارتی باشندوں کو انسانی اسمگلرز یا ریکروٹنگ ایجنٹس نے دھوکا دے کر روسی فوج کا حصہ بنادیا۔ دھوکے سے سائن کرائے گئے کنٹریکٹ کی بنیاد پر اِن بھارتی باشندوں کو روسی فوج نے یوکرین جنگ میں جھونک دیا۔ چند ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
بھارت نے یہ معاملہ روس سے سفارتی سطح پر بھی اٹھایا ہے۔ گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان اس حوالے سے اعلیٰ سطح کے رابطے ہوئے تھے۔ بھارتی قیادت کے لیے اپنے باشندوں کو یوکرین جنگ کی دلدل سے نکالنا بہت بڑا معاملہ تھا کیونکہ اس حوالے سے اُسے شدید نکتہ چینی کا سامنا تھا۔
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کے دوران یوکرین کے محاذوں پر روسی فوج کی طرف سے لڑنے والے بھارتی کنٹریکٹرز کا معاملہ بھی اٹھایا۔ بھارتی میڈیا میں اس حوالے سے اس قدر لکھا گیا ہے کہ نریندر مودی کے لیے یہ معاملہ پوٹن کے سامنے اٹھانا لازم ہوگیا تھا۔
اب تک واضح نہیں کہ جو درجنوں بھارتی باشندے روسی فوج کے کنٹریکٹ کی بنیاد پر یوکرین کی جنگ میں شریک ہیں اُن کی واپسی کب ہوگی اور ہو بھی سکے گی یا نہیں۔
بھارتی میڈیا میں انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے بہت سی رپورٹس آتی رہتی ہیں۔ اِن رپورٹس کی بنیاد پر بھارتی حکومت عوام سے کہتی رہی ہے کہ وہ بہتر معاشی امکانات کی تلاش میں دھوکا نہ کھائیں اور سوچے سمجھے بغیر ایجنٹس پر بھروسا نہ کریں کیونکہ بیشتر ایجنٹس پیسے بٹورنے کے لیے لوگوں کو راستے ہی میں مرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔
