
غزہ/لندن/تہران ( آن لائن+مانیٹرنگ ڈیسک )غزہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج کے حملوں میں مزید 45 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے۔غزہ میں اسرائیلی ٹینک 3 اطراف سے داخل ہوگئے ہیں جس کے بعد بے گھر فلسطینیوں کو ایک بار پھر فوری انخلا کا حکم دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے حماس کا اسلحہ گودام قرار دے کر اقوام متحدہ امدادی ایجنسی کے ہیڈکوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ادھر حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے جنگ بندی کے مذاکرات دوبارہ صفر کی سطح پر آسکتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے ٹیلی گرام پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا کہ ہنیہ نے ثالث ممالک کی قیادت ساتھ فون پر بات کی جس میں انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی فوج کو مذاکرات کے ممکنہ خاتمے کے لیے مکمل طور پر ذمے دار ٹھہرایا۔حماس سربراہ نے کہا کہ نیتن یاہو جنگ بندی مذاکرات میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس نے ثالث ممالک سے نیتن یاہو کی چالوں اور جرائم کو روکنے کے لیے مداخلت کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب طب کے شعبے کے عالمی شہرت یافتہ تحقیقی جریدے لینسٹ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں ہلاکتوں میں تعداد 38 ہزار سے زاید بتائی جارہی ہے جب کہ درست تعداد 1 لاکھ 86 ہزار تک ہوسکتی ہے۔ لینسٹ کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق غزہ میں مجموعی آبادی 23 لاکھ ہے جس میں 8 فیصد آبادی جنگ کا ایندھن بن گئی جن میں بڑی تعداد خواتین اور معصوم بچوں کی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خوراک کی تقسیم کے نیٹ ورکس اور دیگر اہم انفرااسٹرکچر کی وسیع تباہی کی وجہ سے اموات کی حقیقی تعداد بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔لینسٹ کی تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کو بھی مالی امداد میں نمایاں کٹوتیوں کا سامنا ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس ناگفتہ بہ صورت حال کے باعث غزہ میں ہونے والی بالواسطہ اموات براہ راست اموات کی تعداد سے 3سے 15 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں۔ پورٹ میں اموات کی درست تعداد کے تعین کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تاریخی احتساب کو یقینی بنانے اور جنگ کی مکمل قیمت کو تسلیم کرنے کے لیے حقائق کو درست رکھنا بہت ضروری ہے اور یہ ایک قانونی تقاضا بھی ہے۔یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے رواں برس فروری میں جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 10 ہزار لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں جب کہ غزہ کی 35 فیصد عمارتیں تباہ ہیں۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ کی چھتری تلے کام کرنے والے انسانی حقوق کے آزاد ماہرین نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں غذائی قلت کے سبب مزید کئی بچوں کے جاں بحق ہونے سے واضح ہوتا ہے کہ پوری پٹی میں قحط پھیل چکا ہے ۔ برطانوی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والے انسانی حقوق کے 11 ماہرین کے گروپ نے تازہ بیان میں خان یونس کے جنوبی علاقے اور وسطی علاقے دیرالبلا میں غذائی قلت کے باعث مئی کے اختتام سے اب تک بالترتیب 13 سال، 19 سال اور 6 ماہ کی عمر کے تین بچوں کے جاں بحق ہونے کا حوالہ دیا ہے۔غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ غذئی قلت کے باعث 33 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں اور ان اکثریت کا تعلق شمالی علاقوں سے ہے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ وسطی غزہ میں طبی امداد کی فراہمی کے باوجود بھوک سے ان بچوں کے جاں بحق ہونے سے اس بات پر کوئی شبہ نہیں ہے کہ شمالی غزہ سے وسطی اور جنوبی غزہ تک قحط پھیل چکا ہے۔بیان میں دستخط کرنے والوں میں غذائی حقوق کے لیے نمائندہ خصوصی مائیکل فاخری بھی شامل ہیں اور انہوں نے اسرائیل کی جانب سے جان بوجھ کر اور نشانہ بنا کر فلسطینیوں کے خلاف بھوک کی مہم چلانے کے اقدام کی مذمت کی۔ادھر خان یونس میں ہسپتال میں موجود خاتون غنیمہ جوما نے بتایا کہ انہیں خدشہ ہے ان کا معصوم بچہ بھوک سے انتقال کرجائے گا۔مزید برآں ایران کے نومنتخب صدر مسعود پزشکیان نے حزب اللہ چیف حسن نصراللہ کو ایک خط کے ذریعے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران کی حزب اللہ اور دوسرے ایرانی حمایت یافتہ مزاحمتی گروپوں کے لیے حمایت جاری رہے گی۔ نہ صرف یہ کہ حمایت جاری رہے گی بلکہ پوری مضبوطی سے جاری رہے گی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر نے اس امر کا اظہار حسن نصراللہ کو لکھے گئے خط میں کیا۔ یہ خط حسن نصراللہ کی طرف سے ایک روز قبل مبارکباد کے سلسلے میں لکھے گئے خط کا جواب تھا۔ ایرانی نومنتخب صدر نے حزب اللہ کے سربراہ کے نام اپنے خط میں لکھا کہ ایران پہلے بھی غیر قانونی صہیونی رجیم کے خلاف حمایت کرتا ہے اور آئندہ بھی یہ جاری رکھے گا۔