کراچی (اسٹاف رپورٹر) ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا ہے کہ وزیراعظم میاں شہباز شریف کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ آئی ایم ایف کا ۲۴ واں پروگرام آخری پروگرام ہوگا کیونکہ یہ بجٹ صرف آئی ایم ایف کا نہیں بلکہ بین الاقوامی اور پاکستانی اشرافیہ نے مل کر بنایا اور اپنے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے۔ اس بجٹ میں ٹیکس چوروں کالا دھن اور گوشوارے داخل نہ کرنے والوں کو مزے میں رکھا گیا ہے اور ٹیکس دینے والوں کو مزید نچوڑا جارہا ہے۔ جسارت سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ ۳۷ ماہ بعد سات ارب ڈالر کا پروگرام ختم ہونے کے فوراً ۲۵ ویں پروگرام میں جانے کی تیاری کی جائے گی۔ اس قرضے سے صرف دوست ممالک سے کچھ قرض مل جائے گا یا رول اور ہوجائے گا لیکن قومی معاشی استحکام اس بجٹ اور آئی ایم ایف پروگرام کا مقصد نہیں ہے۔ ملک میں دہشت گردی تو بڑھ رہی ہے لیکن حکومت خود عوام کے ساتھ اقتصادی دہشت گردی کررہی ہے اس بجٹ کے نتیجے میں بیرونی قرضوں کے علاوہ اندرونی قرضوں کو بھی ری شیڈول کرنا پڑسکتا ہے۔ اسی طرح اگلے پروگرام میں جانا اجتماعی خودکشی ہوگی۔ وزیراعظم اپنے دعوے کو یاد کریں کہ ایف بی آر نے 15 ہزار ارب روپے کم وصول کیے ہیں۔ اگلے سال مزید کمی ہونے کا خدشہ ہے حکومتی اقدامات سے معیشت کی بہتری کا کوئی امکان نہیں۔ وزیر خزانہ خود ایک خطرناک بات کررہے ہیں کہ ۲۰۲۷ میں ستمبر تک ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب ۱۳ فیصد رہنے کا ہدف ہے یہ ہدف ۹۶/۹۵ میں ۱۴ فیصد تھا۔ اب تو سیلز ٹیکس کی شرح اور عوام پر مزید ٹیکس بھی لگائے گئے ہیں تو پھر یہ ۱۳ فیصد رکھنا کس مقصد کے لیے ہے ایک اور اہم اور خطرناک بات یہ ہے کہ ملکی معیشت کا زیادہ انحصار برآمدات کے بجائے ترسیلات پر ہے۔ یہ برآمدات کے برابر ہیں بھارت سے ہر معاملے میں موازنہ ہوتا ہے اس کی برآمدات ترسیلات سے چھ گنا زیادہ ہیں پاکستان بینکنگ سیکٹر بھی قرضوں کو معاف کرنے جارہا ہے اس کے ڈوبے ہوئے قرضوں کا حجم ۹۹۵ ارب روپے ہے لیکن بینکوں نے اپنی آمدنی سے ۹۲۲ ارب روپے الگ کردینے ہیں یہ قرضے معاف کرنے جارہے ہیں کیونکہ وہ حکومت کو قرضے دے کر بے تحاشہ منافع کمارہے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد نے کہا کہ معیشت جتنی کمزور ہوگی اتنی ہی قومی سلامتی خطرے میں آئے گی۔