
لاہور( نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ملک بھر میں مہنگی بجلی اور طالمانہ ٹیکسز کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ تمام بڑے شہروں میں آگاہی کیمپ سمیت بینرز بھی آویزاں کیے گئے۔ مظاہروں میں تاجر تنظیموں،مزدور یونین، طلبہ تنظیموں کے ذمہ داران سمیت بڑے پیمانے پر لوگوں نے شرکت کی۔مقررین نے 26جولائی کو اسلام آباد میں ہونے والے عظیم الشان دھرنے میں شمولیت کی دعوت دی اور مطالبہ کیا کہ حکومت فی الفور بجلی ٹیرف کے اضافے کو واپس لے،آئی پی پیز معاہدوں سمیت ظالمانہ ٹیکسز کا خاتمہ کرے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ بجلی ٹیرف میں بے تحاشا اور ظالمانہ ٹیکسزکے خلاف اسلام آباد میں 26جولائی کو دھرنا دیا جائیگا، مطالبات کی منظوری تک نہیں اٹھیں گے، دھرنے تک عوامی موبلائزیشن جاری رہیگا، ہماری تحریک عوام دشمن بجٹ کے خلاف ہے، حکومت کو بجلی کے بھاری بلوں وظالمانہ سلیب سسٹم پر عوام کو ریلیف دینا ہو گا، حکمران آئی ایم ایف کے حکم پر بجلی بلوں میں اضافہ کر رہے ہیں، حکمران اشرافیہ ظالمانہ ٹیکس اور پٹرول کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ کررہی ہے،عوام دشمن اقدامات کے خلاف ’’حق دو عوام کو‘‘ تحریک چلارہے ہیں، عوامی حقوق کے لیے سڑکوں پر بھی نکلیں گے،عدالتوں میں بھی جائیں گے۔منصورہ سے جاری بیان میں امیر جماعت نے کہا کہ 26 جولائی کو اسلام آباد میں عوام کو پرامن دھرنے میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں،مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہیں، سپریم کورٹ ایک جوڈیشل کمیشن بنائے، فارم 45کی بنیاد پر ہر سیٹ کا فیصلہ کرے، عدالت کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کی کوئی اخلاقی حیثیت باقی نہیں رہی، چیف الیکشن کمشنر فوری طورپر استعفادیں،انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگانے والی پارٹیوں نے مخصوص نشستیں لے لیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ آدھا نہیں پورا قبول کیا جائے، جماعت اسلامی کے سوا کوئی بھی جماعت عوا م کی ترجمانی کرتی نظرنہیںآرہی،رائٹ آف انفارمیشن کے تحت قوم کا یہ حق ہے کہ اس کے سامنے تمام معاہدے لائیں جائیں، آئی پی پیز کو بے نقاب کیا جائے۔اسلام آباد میں امر جماعت اسلامی کی ہدایت پر شہر کے مختلف مقامات پر احتجاجی کیمپس اور مظاہرے منعقد کیے گئے۔جی نائن،جی الیون،آئی ٹین،کھنہ پل،بہارہ کہو،آبپارہ اور ترامڑی چوک میں ہونے والے مظاہروں سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم ،امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور مقامی ذمہ داران نے خطاب کیا۔ جماعت اسلامی پنجاب شمالی کے زیر اہتمام جی ٹی ایس چوک میں احتجاجی مظاہرہ ہوا ۔امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم نے مظاہرے سے خطاب کیا۔دھرنے میں علمائے کرام، وکلا، تاجروں، صنعت کاروں، کسانوں اور مزدوروں سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔علاوہ ازیں راولپنڈی میں لیاقت باغ سمیت مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے۔ ملتان میں حسین چوک میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام دھرنا منعقد کیاگیا۔امیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب رائو محمد ظفر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 26جولائی کو اسلام آباد میں غریب عوام کی قسمت کا فیصلہ ہوگا،اشرافیہ سے نجات دلائیںگے۔ملک میں دو نظام ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ امیر جماعت اسلامی ملتان میاں آصف اخوانی سمیت شہر کے مختلف نمائندوں نے دھرنے مین شرکت کی۔ علاوہ ازیںبہاولپور،تونسہ،ڈیرہ غازی خان،لیہ اور جلالپورمیں مظاہرے ہوئے۔ امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب مولانا جاوید قصوری نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معیشت تباہی سے دوچار ہے، مہنگائی اور بے روزگاری کی صورت حال سب کے سامنے ہے، بجلی کے بلوں سے لوگ بلبلا اٹھے ہیں، آنے والے دنوں میںمعاشی حالات بدترین ہونے کا خدشہ ہے، صرف غریب ہی نہیں متوسط طبقہ بھی سخت پریشانی میں مبتلا ہے۔قوم26جولائی کو اسلام آباد دھرنے میں شرکت کرکے پاکستان کو اشرافیہ سے نجات دلائیں۔علاو ازیں لاہور ،فیصل آباد ،گجرانوالہ میں بھی مظاہرے منعقد کیے گئے جس سے صوبائی و ضلعی قیادت نے خطاب کیا۔صوبہ سندھ میں حیدر آباد پریس کلب،میرپور خاص پریس کلب،کشمور پریس کلب،لاڑکانہ پریس کلب،کندھ کوٹ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔نائب امیر جماعت اسلامی ممتاز حسین سہتو نے جیکب آبادمیںمطاہرین سے خطاب کیا۔جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے تحت پشاور،مردان،دیر،بنوں،بونیر ،مانسہرہ میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔امیر جماعت اسلامی کے پی کے پروفیسر محمد ابراہیم نے بنوں پریس کلب کے سامنے جبکہ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر عطا الرحمن نے مردان ، سیکرٹری جنرل عبدالواسع نے پشاور،سابق ممبر صوبائی اسمبلی عنایت اللہ،صاحبزادہ طارق اللہ نے دیر اور ڈاکٹر طارق شیرازی نے مانسہرہ میں خطاب کیا۔جماعت اسلامی بلوچستان کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔جس سے امیر صوبہ مولانا عبدالحق ہاشمی نے خطاب کیا علاوہ ازیں پشین، خضدار، لورالائی میں بھی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گیے۔