اسلام آباد(نمائندہ جسارت)پاکستان تحریک انصاف نے الزام لگایا ہے کہ وفاقی حکومت مخصوص نشستوں سے متعلق عدالتی فیصلے کے بعد تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ جھنگ سے ہمارے ایم این اے امیر سلطان کو اغوا کرلیا گیا ہے، جس کے پاس اختیار ہے وہ طاقت کے زور پر فیصلے کر رہا ہے ،لوگوں کی وفاداری کی تبدیلی کرنے کے لیے ان پر زور ڈالا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فیصلوں کے خلاف بغاوت ہورہی ہے، قانون اور آئین کے مطابق ملک کو نہ چلایا گیا تو ملک قائم نہیں رہے گا، آپ پاکستان کو کس طرف لے کر جارہے ہیں، ملک کو خطرات سے دوچار نہ کریں، ہم پاکستانی ہیں آئین اور قانون کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔اسد قیصرکا کہنا تھا کہ میں بحیثیت پاکستان تحریک انصاف کا کارکن بتانا چاہتا ہوں ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، تحریک انصاف اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی، تحریک انصاف کے ایم این ایز کو عوام کی امنگوں کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ میری سپریم کورٹ اور اعلیٰ عدلیہ سے درخواست ہے کہ فارم 45 اور 47 کا فیصلہ جلد کیا جائے، ملک میں دھاندلی زدہ جعلی انتخاب ہوا اور اس میں چیف الیکشن کمیشن کا کلیدی کا کردار ہے، عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمشنر کو استعفیٰ دینا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے کہوں گا کہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف جوڈیشل کمیشن میں جائیں۔ادھر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے حکومت پر الزام عاید کیا ہے کہ مقامی انتظامیہ افسران کے ذریعے ان کے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی پرپی ٹی آئی میں شمولیت کے حلف نامے پر دستخط نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ایکس پر بیان میں ان کا کہنا تھاکہ وہ انہیں شہباز شریف اور مریم نواز کی جانب سے وزارتوں اور دیگر لالچوں کی پیش کش کر رہے ہیں اور دعویٰ کیا کہ ان کے پاس کمشنرز کے نام اور ثبوت موجود ہیں۔علاوہ ازیں اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارے اراکین کو اٹھایا گیا ہے، عدالت عظمیٰ نوٹس لے اور ان کو رہا کیا جائے۔