واشنگٹن /پنسلوینیا / اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ریاست پنسلوانیا کے علاقے بٹلر میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک انتخابی جلسے میں فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہو گئے، جبکہ مبینہ حملہ آور کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ حملہ آور کی فائرنگ سے ریلی میں شریک ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ ری پبلکن رہنما ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے تھے جہاں انہیں اپنے نائب صدر کے امیدوار کا اعلان کرنا تھا کہ اچانک فائرنگ کی زوردار آوازوں کے ساتھ ہی ریلی میں خوف و ہراس پھیل گیا اور سابق صدر اسٹیج پر گر گئے جنہیں سیکرٹ سروس کے ایجنٹوں نے فوری طور پر اپنے حصار میں لے لیا اور محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ سیکرٹ سروس کے حصار کے دوران بھی عوام کو دیکھ کر بار بار مُکہ لہراتے رہے۔سیکرٹ سروس کی کاؤنٹر اسنائپر ٹیم کی فوری جوابی کارروائی میں تھامس میتھیو کروکس سر میں گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا تھا جب کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کان پر گولی لگنے سے زخمی ہوگئے تھے۔ میتھیو کروکس کا تعلق پینسلوانیا کے علاقے بیتھل پارک سے ہے جس نے اسٹیج سے محض 130 گز کی دوری پر واقع ایک فیکٹری کی چھت پر رینگتے ہوئے پہنچا اور وہاں سے لیٹ کر ٹرمپ کو نشانہ بنایا۔سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر فائرنگ کرنے والے حملہ آور کی وڈیو منظر عام پر آگئی جس میں حملہ کو ایک عمارت کی چھت پر دیکھا جاسکتا ہے جبکہ گولیاں چلنے کی آواز بھی سنائی دے رہی ہے۔ حملہ آور کی جانب سے فائرنگ کیے جانے کے چند لمحوں بعد ہی سیکریٹ سروس اہلکاروں نے حملہ آور کو ہلاک کردیا۔امریکا کے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے حملہ آور کی شناخت بھی ظاہر کردی۔ ایف بی آئی کے مطابق حملہ آور کی شناخت 20 سالہ تھامس میتھیو کروکس کے نام سے ہوئی ہے جو ریاست پنسلوینیا کا رہائشی ہے۔ پنسلوینیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فائرنگ کرکے زخمی کرنے والے نوجوان کا وڈیو بیان سامنے آگیاحملے سے قبل ملزم نے اپنے سوشل میڈیا اکائونٹس پر ایک وڈیو اپ لوڈ کی تھی جس میں اس نے کہا تھا کہ میرا نام تھامس میتھیو کروکس ہے‘ میں ٹرمپ اور ان کی جماعت ریپبلکن سے نفرت کرتا ہوں۔ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ترجمان اسٹیون چیونگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ٹھیک ہیں اور ایک مقامی طبی مرکز میں ان کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے۔ترجمان اسٹیون چیونگ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے اس گھناؤنے واقعے کے دوران فوری کارروائی کرنے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور امدادی اداروں کا شکریہ ادا کیا‘ اب ایک فعال تحقیقات جاری ہیں اور دستیاب ہونے پر مزید معلومات جاری کی جائیں گی۔وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن، جو اپنی آبائی ریاست ڈیلاویئر میں ہیں انہیں اس واقعے کی ابتدائی بریفنگ دے دی گئی ہے۔ روس نے سابق امریکی صدر ٹرمپ پر ہونے والے حملے پر ردعمل دیتے ہوئے امریکا کی موجودہ صورتحال کا ذمہ داربائیڈن انتظامیہ کو قرار دیا ہے۔ کریملن ترجمان دمیتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس سیاسی جدوجہد میں تشدد کی سختی سے مذمت کرتا ہے، ٹرمپ پر ہوئے حملے کے متاثرین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کریملن ترجمان نے کہا کہ روس یہ نہیں سمجھتا کہ ٹرمپ پر حملہ موجودہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا ہے تاہم ٹرمپ کے ارد گرد بنایا گیا ماحول اس صورتحال کی وجہ بنا جو آج امریکا کو درپیش ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی ریلی کے دوران حملے کی شدید مذمت کی ہے۔شہباز شریف نے سابق امریکی صدر اور زخمی ہونے والے دیگر افراد کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیاسی عمل میں ہر قسم کا تشدد قابل مذمت ہے، اس مشکل وقت میں ہماری ہمدردیاں اور نیک خواہشات ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کے ساتھ ہیں۔ علاوہ ازیں صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر پر حملے کا سن کر گہرا صدمہ پہنچا، سیاست میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں، انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جلد صحتیابی کے لیے نیک خواہشات اور انسانی جان کے ضیاع پر اظہارِ افسوس بھی کیا۔ انتخابی ریلی کے دوران حملہ آور کی فائرنگ سے بال بال بچ جانے والی سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے دنیا بھر میں ہمدردی اور ملک گیر مقبولیت میں اضافہ ہوگیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ پر ناکام قاتلانہ حملے کی اطلاع ملتے ہی عالمی رہنمائوں کی جانب سے صدر ٹرمپ کی خیریت کی معلومات کے لیے ٹیلی فونز کا تانتا بندھ گیا۔ عالمی رہنمائوں نے حملے کی مذمت کی اور اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ امریکی عوام نے بھی اس واقعے پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے جب کہ ان کے حامیوں میں جوش کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ابتدائی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ ٹرمپ پر فائرنگ سے کچھ دیر قبل ہی پولیس کو حملہ آور کے بارے میں بتایا گیا تھا لیکن اہلکاروں نے توجہ نہ دی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر فائرنگ کے واقعے کے عینی شاہد نے ہوش ربا انکشافات کیے ہیں جس نے پولیس کی غفلت اور لاپروائی کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کے ایک عینی شاہد نے برطانوی میڈیا کو بتایا کہ اس نے ایک مسلح نوجوان کو عمارت کی چھت پر رینگتے ہوئے دیکھا جو ٹرمپ کی جانب پوزیشن لے رہا تھا اور خطرہ بھانپتے ہوئے پولیس اہلکار کو بھی بتایا۔ عینی شاہد نے مزید بتایا کہ میں نے مسلح نوجوان کو ٹرمپ کو نشانہ بنانے کے لیے پوزیشن لیتے ہوئے محض50 فٹ کی دوری پر دیکھا تھا۔ اس کے اسلحے کی نال اسٹیج کی جانب تھی۔عینی شاہد نے یہ بھی بتایا کہ میں نے اوپر موجود سیکرٹ سروس کے اہلکاروں کو اشاروں سے مسلح نوجوان کی جانب توجہ دلائی لیکن وہ شاید میری بات سمجھ نہیں سکے اور پھر یکے بعد دیگرے فائرنگ کی 5 آوازیں سنائی دیں۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے حملے پر امریکی صدر سمیت مختلف رہنماؤں نے سخت مذمت کی ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس حملے میں محفوظ رہے یہ جان کر خوشی ہوئی ہے‘ امریکا میں ایسے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔سابق صدر بش نے کہا کہ ٹرمپ پر حملہ بزدلانہ فعل ہے۔ سابق صدر بارک اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ ہر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جمہوریت میں سیاسی تشدد کی قطعاً کوئی جگہ نہیں ہے۔ٹرمپ کے بیٹے جونیئر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرے والد امریکا کو بچانے کی جنگ سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ امریکا میں صدور پر حملوں کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ابراہام لنکن، جیمز گارفیلڈ، ولیم مک کینلی اور جان ایف کینیڈی قاتلانہ حملوں میں مارے گئے تھے جب کہ 7 امریکی صدور حملوں میں محفوظ رہے۔ امریکا میں کسی صدر کے قتل کا پہلا واقعہ1865ء میں پیش آیا جب اس وقت صدر ابراہام لنکن کو فورڈ تھیٹر میں ڈراما دیکھتے ہوئے گولی ماردی گئی تھی۔ امریکا میں سب سے کم مدت تک صدر رہنے والے جیمز گارفیلڈ تھے۔ انہوں نے یہ عہدہ 2 نومبر 1880ء کو سنبھالا اور محض 6 ماہ بعد 4 مارچ 1881ء کو قتل کردیے گئے۔ امریکی صدر ولیم مک کینلی کو بھی قتل کیا گیا تھا۔1901ء میں قاتلانہ حملے میں زخمی ہوگئے جس سے وہ جانبر نہ ہوسکے۔ سال 1961ء سے 1963ء میں اپنے قتل تک صدر رہنے والے جان ایف کینیڈی امریکا کے کم عمر ترین اور 35 ویں صدر تھے۔ وہ رومن کیتھولک سے تعلق رکھنے والے واحد امریکی صدر تھے۔ انہیں بھی قتل کیا گیا تھا اور تاحال یہ قتل کیس ایک معمہ ہے۔ قاتلانہ حملوں میں زندہ بچ جانے والے امریکی صدور کی فہرست بھی لمبی ہے۔ امریکی صدر اینڈریوجیکسن بھی قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے تھے۔ شوٹر نے ان پر 2 گولیاں چلائیں لیکن دونوں بار گولیاں بندوق میں پھنس گئی تھیں۔ 1912ء میں امریکا کے26 ویں صدر تھیوڈور روزویلٹ کو بھی ایک انتخابی جلسے میں گولیاں ماری گئی تھیں وہ بھی حملے میں بال بال بچ گئے تھے۔مسلسل 4 بار امریکی صدر رہنے والے فرینکلن روزیلٹ پر 2 بار قاتلانہ حملے کیے گئے۔ قتل کی ناکام کوشش 1933ء میں میامی میں کی گئی جب کہ دوسری بار شکاگو میں حملہ کیا گیا تھا۔وائٹ ہاؤس کے سامنے کسی امریکی صدر پر فائرنگ کا واقعہ 1950ء میں پیش آیا جب اس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین کو گولیاں ماری گئیں تاہم وہ محفوظ رہے۔1974ء سے 1978ء تک امریکا کے صدر رہنے والے جیرالڈ فورڈ بھی 2 بار قاتلانہ حملوں میں معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔ 1981ء میں صدر رونلڈ ریگن کو ہوٹل کے باہر قاتلانہ حملے میں گولیاں لگنے سے پریس سیکرٹری سمیت شدید زخمی ہوگئے تھے۔ قاتلانہ حملوں میں محفوظ رہنے والے سابق صدور باراک اوباما بھی شامل ہیں جن پر 2011ء میں وائٹ ہائوس میں فائرنگ کی گئی تھی۔