امریکی سینیٹر جے ڈی وینس کو ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا نائب منتخب کیا ہے۔ یعنی اگر وہ دوبارہ صدر منتخب ہوئے تو جے ڈی وینس نائب صدر ہوں گے۔
سینیٹر جے ڈی وینس نے ابھی نائب صدر کی حیثیت سے اپنا سفر شروع ہی کیا ہے اور ایک قضیہ بھی کھڑا کردیا ہے۔ برطانوی کنزرویٹوز کے لیے منعقدہ ایک کنونشن میں جے ڈی وینس نے کہا کہ شاید برطانیہ حقیقی معنوں میں پہلا مسلم ملک ہوگا جس کے بعد ایٹمی ہتھیار ہوں گے۔
جے ڈی وینس کی اس بات پر امریکا اور برطانیہ میں بھرپور تنقید ہو رہی ہے۔ کنونشن سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے بہت نزدیک ہے اور پاکستان کے پاس چند ایٹمی ہتھیار ہیں مگر میرا خیال ہے برطانیہ پہلا حقیقی مسلم ملک ہوگا جس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں گے۔
جے ڈی وینس نے یہ بات برطانیہ کے حالیہ انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کے عناصر کی شکست اور بائیں بازو کی لیبر پارٹی کی فتح کے تناظر میں کہی۔ اُن کا اشارا اس بات کی طرف تھا کہ اب برطانیہ میں لیبر پارٹی کے تحت مسلمانوں کو عروج نصیب ہوگا۔
برطانیہ کی نائب وزیراعظم انجیلا رینر نے آی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ جے ڈی وینس ماضی میں بھی ایسی “پھل دار” باتیں کرتے ہیں۔ انجیلا رینر کا کہنا تھا کہ لیبر پارٹی کی حکومت میں جے ڈی وینس نے برطانیہ کی جو شناخت یا کردار پیش کیا ہے وہ بالائے فہم ہے۔
امریکی وزیرِ محنت جیمز مرے نے کہا کہ امریکا اور برطانیہ کے تعلقات غیر معمولی سطح پر مستحکم ہیں اور اِن تعلقات کو کسی شخص کے ریمارکس سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ امریکا اور برطانیہ ہر شعبے میں ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔
اسکائی نیوز سے گفتگو میں جیمز مرے نے کہا کہ برطانیہ کے حوالے سے جے ڈی وینس نے جو کچھ کہا وہ میری سمجھ میں نہیں آیا اور یہ بھی سمجھ میں نہیں آیا کہ اِس مرحلے پر اُنہوں نے ایسی بات کیوں کہی۔
