کراچی : چوروں نے میڈیکل اسٹور کو بھی نہ چھوڑا، امراض قلب کے سب سے بڑے اسپتال میں لاکھوں روپے کی ادویات مبینہ طور پر چوری ہوگئیں۔
رپورٹ کے مطابق بہاولپور کے بعد کراچی میں بھی ادویات کی سب سے بڑی چوری کا انکشاف ہوا ہے۔ ادویات کا ریکارڈ نہ ملنے پر ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے فارمیسی انچارج کو معطل کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
قومی ادارہ برائے امراض قلب میں فارمیسی انچارج جبران بن یوسف پر لاکھوں روپے کی ادویات چوری کا الزام لگایا گیا ہے جبکہ چوروں نے نے دل کے مریضوں کی ادویات بھی نہ چھوڑی۔
ادوایات کہاں گئی؟ ایگزیکٹیوڈائریکٹر نے فارمیسی انچارج سے جواب طلب کرلیا تاہم تسلی بخش جواب نہ ملنے پر فارمیسی انچارج جبران بن یوسف کو معطل کردیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق جبران بن یوسف کی جانب سے مبینہ طور پر ادویات کی چوری پر ڈائریکٹر نے انکوائری کمیٹی بھی قائم کردی۔
ترجمان این آئی سی وی ڈی کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہوگی۔
