ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جسٹس (ر) مقبول باقر کی بھی معذرت،آئین ایڈہاک ججز تعیناتی کی اجازت دیتا ہے‘ وزیر قانون،پی ٹی آئی کا سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان

کراچی /اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر+نمائندہ جسارت+صباح نیوز)جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے بھی ایڈہاک جج بننے سے انکار کر دیا۔ان کا کہنا ہے کہ میں مصروفیت اور ذاتی وجوہات کی بنا پر عدالت عظمیٰ کا حصہ نہیں بن رہا،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نیک نیتی سے یہ کام کر رہے ہیں،چیف جسٹس کا یہ اقدام 100 فیصد آئینی اور قانونی ہے۔قاضی فائز عیسیٰ جب چیف جسٹس بنے تھے تو انہوں نے مجھ سے اس بارے میں بات کی تھی، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سیاسی مقدمات کی وجہ سے عدالت عظمیٰ کا بہت وقت ضائع ہو گیا ہے، ہزاروں مقدمات زیر التوا ہیں ،اس التوا کو ختم کرنے کے لیے ایڈہاک ججز کا تقرر کیا جا رہا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز مقدمات کا بوجھ کم کرنے کے لیے ایڈہاک ججز کی تعیناتی چاہتے ہیں۔ جسٹس طارق مسعود ،جسٹس مظہر عالم میاں خیل انتہائی قابل اور ایماندار ججز ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل جسٹس ریٹائرڈ مشیر عالم بھی سپریم کورٹ کا ایڈہاک جج بننے سے انکار کرچکے ہیں۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آئین ایڈہاک ججز کی تعیناتی کی اجازت دیتا ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایڈہاک ججز چیف جسٹس نے نہیں جوڈیشل کمیشن کو مقرر کرنے ہیں،میری رائے میں ایڈہاک ججز تعینات ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ جوڈیشل سسٹم کی اصلاحات کے لیے آئینی ترمیم کے حق میں ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی مدت ملازمت میں توسیع کی خبریں درست نہیں، پنشن بل زیادہ ہونے کی وجہ سے سرکاری ملازمین کی مدت ملازمت میں توسیع کی بحث نے جنم لیا، دنیا بھر میں سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد میں اضافہ ہوا ہے، پنشن کی مد میں حکومت کو بھاری رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔وزیر قانون کے بقول جوڈیشری سمیت تمام سرکاری ملازمین کی مدت ملازمت میں توسیع کی تجویز زیر غور تھی، اپریل کے آخر یا مئی کے اوائل میں چیف جسٹس سے جوڈیشل کمیشن کی میٹنگ کے حوالے سے ملاقات ہوئی تھی، اس وقت چیف جسٹس کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، چیف جسٹس نے کہا کہ مدت ملازمت کی توسیع میں دلچسپی نہیں، جسٹس منصور علی شاہ چیف جسٹس کی مدت ملازمت کی توسیع کی تجویز سے متفق تھے۔اعظم نذیر تارڑ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں پر آرٹیکل 6 لگانے کا معاملہ پارلیمنٹ میں لایا جا سکتا ہے، تحریک عدم اعتماد کی موجودگی میں پی ٹی آئی نے اسمبلیاں تحلیل کر کے آئین کی خلاف ورزی کی تھی،ان کے رہنماؤں پر آرٹیکل 6 کا جینوئن کیس ہے، عدالت نے بھی کہا کہ تحریک انصاف نے اسمبلیاں تحلیل کر کے غیر آئینی اقدام اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال پی ٹی آئی پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ سیاسی ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے کیا تھا۔مزید برآں تحریک انصاف نے عدالت عظمیٰ میں ایڈہاک ججز لانے کے فیصلے کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان کیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایڈ ہاک ججز کے تقرر کے معاملے پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور اپوزیشن لیڈر سینیٹ سینیٹر شبلی فراز نے جوڈیشل کمیشن کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے، خط میں جوڈیشل کمیشن سے ایڈہاک ججز کے تقررپر مخالفت سے باقاعدہ آگاہ کیاجائے گا۔ اسلام آباد میں پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی 70 فیصد پاکستانیوں کی ترجمان جماعت ہے، اس پر پابندی حکومت کے ختم ہونے کا کاؤنٹ ڈاؤن ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ میں ایڈہاک ججز کو لگایا جا رہا ہے، یہ اقدامات بدنیتی پرمبنی ہیں، 4 ایڈہاک ججز کو ایک ساتھ لانے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، ایڈہاک ججز کی تعیناتی کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیج رہے ہیں، ججز اس معاملے کو متنازع نہ بنائیں۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ 4 ایڈہاک ججز کو ایک ساتھ لانا آزاد عدلیہ کے لیے مضر ہے، یہ وقت ایسے فیصلے لینے کا نہیں، یہ وقت عدالت عظمیٰ کے اہم فیصلے کو سننے کا ہے، ہم الیکشن کمیشن سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں یہ آخری وقت ہے فوری ہمارا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔قبل ازیں پاکستان بار کونسل نے عدالت عظمیٰ میں ایڈہاک ججز کی تعیناتی کو درست قرار دیا۔اسلام آباد میں پاکستان بار کونسل کا ایڈہاک ججز کی حمایت میں جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان بارکونسل ارکان نے ہی عارضی ججزکی درخواست کی تھی، چیف جسٹس پاکستان نے گزارش کومانتے ہوئے ایڈہاک ججزکے لے کمیشن کااجلاس بلایا ہے،بار کونسل اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ عدالت عظمیٰ میں سیاسی مقدمات کے باعث عام سائلین کے مقدمات التواکاشکارہیں،پاکستان بارکونسل نے الگ آئینی عدالت کے قیام کا مطالبہ بھی کردیا۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں