مٹیاری (نمائندہ جسارت)مٹیاری کے قریب پیرل چھٹو گاؤں میں خسرہ نے ایک مزید بچے کی جان لے لی، جاںبحق بچوں کی تعداد 7 ہوگئی، ڈپٹی کمشنر مٹیاری نے محکمہ صحت کی لاپرواہی قراردیدی، مزید تحقیقات کی جارہی ہے جلد رپورٹ جاری کرکے متعلقہ حکام کو بھیجی جائے گی۔ ڈی سی، صوبائی سیکرٹری ہیلتھ نے ڈی جی ہیلتھ سندھ سے رپورٹ طلب کرلی، واقعہ پر انتظامیہ اور محکمہ ہیلتھ میں کھلبلی مچ گئی، ضلع مٹیاری کے اسپتالوں میں بہتری کے لیے کافی بار محکمہ ہیلتھ نے لکھاہے لیکن ہیلتھ حکام کوئی حال پرساں نہیں: ہیلتھ افسرمٹیاری کے قریب اڈیرولال کے نواحی پیرل چھٹو گائوں میں گزشتہ تین روز کے اندر خسرہ کے باعث ایک اور بچی فاطمہ جاںبحق ہوگئی جبکہ گزشتہ دوروز میں 6 بچے جاںبحق ہوگئے تھے، جاںبحق بچوں کی تعداد 7 ہوگئی ہے میڈیاکی خبروں پر انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی ہے جبکہ اس سے قبل محکمہ ہیلتھ کی غفلت اور لاپرواہی تھی جس کی وجہ سے علاقے میں ویکسین یامقامی اسپتال میں کوئی علاج معالجہ بہتر طریقہ سے نہ دیاجارہاتھا محکمہ ہیلتھ کی ٹیمیں ویکسین کرنے ڈی ایچ او ہیلتھ پیر غلام محمد کی نگرانی میں متاثرہ گائوں پہنچ گئی۔ ڈپٹی کمشنرمٹیاری یوسف شیخ نے بھی مذکورہ واقعے میں محکمہ ہیلتھ کی غفلت اور لاپرواہی قرار دیدی اور گفتگو کرتے ہوئے ڈی سی کا کہناتھاکہ اس سلسلے میں میں نیپیر چھٹو علاقے کا دورہ کرکے جاںبحق بچوں کے ورثا سے ملاقات کی ہے اورنہ صرف یہاں بلکہ گردونواح میں سیکڑوں بچوں کو ویکسین بھی کی ہے۔ ان کامزید کہناتھاکہ مزید تحقیقات کی جارہی ہے جوبھی ملوث نکلا اس کے خلاف محکمہ صحت کے حکام کولکھاجائے گا۔ دوسری طرف صوبائی سیکرٹری ہیلتھ نے نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے ایک ضلع ہیلتھ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ محکمہ صحت کے بالاحکام کوطویل عرصے سے ضلع مٹیاری کے تمام اسپتالوں میں صحت کی سہولیات اوراسپیشلسٹ ڈاکٹرز کی قلت دیگر مسائل کے حل کے لیے لکھاہے لیکن کوئی پرساں حال نہیں ہے دوسری طرف ایک ہی خاندان کے 7 بچوں کے جاںبحق ہونے کے واقعے پر علاقے میں سوگوار ماحول پیداہوگیا۔ سول سوسائٹی نے وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکرٹری سندھ دیگر حکام سے ضلع بھر کے اسپتالوں کی بہتری اور خسرہ ویکسین میں غفلت پر محکمہ ہیلتھ کے افسران اور عملہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔