ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پنجاب اسمبلی میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی  کیلیے قرارداد جمع

عافیہ صدیقی کی رہائی  کیلیے سینیٹر مشتاق اور فوزیہ صدیقی امریکا جائینگے

لاہور:پنجاب اسمبلی میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے قرارداد جمع کرا دی گئی۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے  قرارداد سنی اتحاد کونسل کی رکن  بسمہ چودھری نے جمع کروائی، جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی پاکستانی شہری ہے۔ عافیہ صدیقی کی جان اور عزت کی حفاظت بھی فیڈریشن آف پاکستان کی ذمے داری ہے اور ہر پاکستانی شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ خواہ وہ کہیں بھی ہو۔

قرارداد کے مطابق عافیہ صدیقی کے وکیل نے انکشاف کیا ہے کہ عافیہ پر صرف جسمانی تشدد ہی نہیں جنسی تشدد بھی کیا جارہا ہے۔ کیا ریاست پاکستان اپنی بیٹی کی یہ بے حرمتی برداشت کرسکتی ہے؟ عافیہ صدیقی پر ذہنی دباؤ ڈالا جارہا اور اپنے مذہب سے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اسے امام سے ملنے نہیں دیا جارہا ہے۔

قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی اس کو قانونی دفاع کے حق سے محروم کرنے کے لیے دستاویزات پر دستخط بھی نہیں کرنے دیے جارہے ہیں، پاکستان کی بیٹی پر یہ ظلم اور جبر ہمیں ہرگز منظور نہیں ہے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی کو وطن واپس لانے کی مخلصانہ کوشش کی جائے، یہ صرف زبانی نہیں عملی طور پر کی جائیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر بلاتاخیر عمل کیا جائے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ہمدردانہ بنیادوں پر رہائی کے قانون کے مطابق اس کی گرتی ہوئی جسمانی و ذہنی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کرے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی 20 سال سے ناحق قید ہیں، وہ شدید بیمار ہیں اور کسی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں، صدارتی معافی اور ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کے لیے وزیراعظم پاکستان خود امریکا سے تحریری طور پر مطالبہ کریں۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان فوری طور پر میڈیکل ٹیم کے معائنہ اور اپنی مرضی کے امام سے ملاقات کے لیے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کرے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں