اسلام آباد(آن لائن+نمائندہ جسارت) اسلام آباد پولیس نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹریٹ پر چھاپہ مارا اور چیئرمین پی ٹی آئی اور سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن کو حراست میں لے لیا۔ شبلی فراز نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور رہنمارؤف حسن کو گرفتارکرلیا، پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ کس کیس میں گرفتار کیا ہے تاہم اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ بیرسٹر گوہر کو حراست میں نہیں لیا گیا۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پولیس پی ٹی آئی سیکرٹریٹ سے کمپیوٹر اور دیگر سامان ساتھ لے گئی۔پولیس نے قیدی وین بھی پی ٹی آئی مرکزی سیکرٹریٹ پہنچا دی پولیس نے مرکزی دفتر کو چاروں جانب سے گھیر لیا اور پی ٹی آئی سیکرٹریٹ جانے والا راستہ بند کردیا گیا، بیرسٹرگوہر اور سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن سیکرٹریٹ میں موجود تھے، ویمن پولیس بھی تحریک انصاف کے سیکرٹریٹ کے باہرموجود رہی۔سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی دفتر میں قائم ڈیجیٹل میڈیا سیل پرشواہد کی بنیاد پر چھاپہ مارا گیا۔مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا ڈیجیٹل میڈیا مرکز انٹرنیشنل ڈس انفارمیشن کا حب بنا ہوا تھا۔ذرائع کے مطابق دفتر سے پاکستان مخالف پروپیگنڈا ملک دشمن ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کرایا جاتا تھا، براہِ راست ملوث لوگوں کو رنگے ہاتھوں ایکویٰپمنٹ سمیت گرفتار کیا گیا، ڈیجیٹل میڈیا مرکز سے لوگوں کو بھڑکایا اور پروپیگنڈا کیمپینز چلائی جاتی تھیں۔دریں اثنا، پی ٹی آئی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وڈیو شیئر کرتے ہوئے الزام عاید کیا کہ اسلام آباد پولیس پی ٹی آئی کو ٹارگٹ کرنے میں مصروف ہے،معلوم ہوا ہے کہ رؤف حسن کی طبیعت کی خرابی کے باعث بیرسٹر گوہر ان کے ہمراہ پولیس لائنز روانہ ہوئے تھے جہاں پولیس نے ان سے کہا کہ آپ کی کسی مقدمے میں گرفتاری مطلوب نہیں لہٰذا آپ روانہ ہوسکتے ہیں۔ پولیس نے انہیں گھر چھوڑ دیا جبکہ رؤف حسن تاحال پولیس لائنز میں زیر حراست ہیں۔پولیس نے نہ صرف میڈیا کو کوریج کی اجازت نہیں دی اور فوٹیج بنانے نہیں دی بلکہ وڈیو بنانے کی کوشش پر نجی ٹی وی کے نمائندے سے بدتمیزی بھی کی۔علاوہ ازیں تحریک انصاف نے اپنی آفیشل ویب سائٹ غیر اعلانیہ طور پر بند کرنے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب اور شبلی فراز کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ویب سائٹ کی بندش کے خلاف درخواست دی گئی ہے جس میں اسے بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی آفیشل ویب سائٹ انصاف ڈاٹ پی کے کو پاکستان میں بلاک کردیا گیا ہے، ویب سائٹ کا مقصد عوام کو تحریک انصاف کی سرگرمیوں سے آگاہ رکھنا تھا جبکہ اس پر پی ٹی آئی کا منشور، قیادت کی معلومات بھی عوام کو فراہم کی گئی تھی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ عام انتخابات کے دوران عوام کو تحریک انصاف کے امیدواروں کی معلومات بھی ویب سائٹ کے ذریعے دی گئیں تھیں، ویب سائٹ کی بندش اور قدغن آئین کے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہے۔عمر ایوب اور شبلی فراز نے درخواست میں استدعا کی ہے کہ فریقین کو تحریک انصاف کی ویب سائٹ سے قدغن ہٹانے اور بحال کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ درخواست میں سیکرٹری اطلاعات، چیئرمین پی ٹی اے اور سیکرٹری داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔