ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روس نے یوکرین کے 75 ڈرون طیارے مار گرانے کا اعلان کردیا۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے 47 طیارے روستوو کی فضا میں ، 17 طیارے بحیرہ آزوو اور بحیرئہ اسود پر اور 8 طیارے کرسنوڈور کی فضا میں مار گرائے جب کہ بیلگوروڈ، فورونیج اور اسمولنسک کے علاقوں میں ایک ایک ڈرون گرایا گیا۔ یوکرین کے ڈرون طیاروں کے حملے میں بحیرہ اسود کے ساحل پر واقع روسی آئل ریفائنری کو نقصان پہنچا۔ روس کی جانب سے تقریبا روزانہ کی بنیاد پر یوکرین کے ڈرون طیاروں کو تباہ کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے جو اس کی اراضی کو نشانہ بنانے آتے ہیں۔ ادھر کیف حکومت کا کہنا ہے کہ وہ یہ ڈرون حملے یوکرین پر 2سال سے زیادہ عرصے سے جاری روسی بم باری کے جواب میں کر رہا ہے۔ یوکرین کے مطابق اس کی اولین ترجیح عسکری اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے۔ دوسری جانب یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تردید کی کہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اْن کی ممکنہ فتح سے روس کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی،جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کو اقتدار ملنے پر روس سے متعلق پالیسی تبدیل نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ٹرمپ نے صدر زیلنسکی کو مشورہ دیا کہ وہ جعلی خبروں پر یقین نہ کریں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ان کی واپسی روس کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یوکرینی حکومت ٹرمپ کے حقیقی عزائم پر کڑی نظر رکھے گی۔یاد رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ 24 گھنٹوں میں یوکرین پر روس کے حملے کو ختم کروا سکتے ہیں۔