
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پی ٹی آئی کا علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا جس میں چیئرمین بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سمیت دیگر سینئر رہنما موجود ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گرفتاریوں، چھاپوں اور مقدمات کے خلاف پی ٹی آئی کے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کے علاوہ علی محمد خان، شیخ وقاص اکرم، سینیٹر ہمایوں مہمند اور فلک ناز چترالی بھی موجود تھے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق بھوک ہڑتال کے ذریعے ارکان پارلیمان کو وفاداریاں نہ بدلنے پر مقدمات کی دھمکیوں کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔ احتجاجی کیمپ کے ذریعے بانی پی ٹی آئی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔ بعد ازاں پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ بھو ک ہڑتالی کیمپ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ منگل کو تحریک انصاف کے ایک وفد نے اسپیکر ایاز صادق کے ساتھ ان کے چیمبر میں ملاقات کی، ہم نے ملاقات میں اپنے اراکین اسمبلی کی سیکورٹی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلی بار پارلیمنٹ کی حدود میں 3 گھنٹے کے لیے بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگایا، ہم روزانہ کی بنیاد پر بنیادی حقوق کی فراہمی تک بھوک ہڑتالی کیمپ لگائیں گے‘ خان صاحب کی رہائی تک یہ بھوک ہڑتالی کیمپ جاری رہے گا۔رہنما پی ٹی آئی و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہا کہ جب عمران خان کا حکم ہوگا پورے ملک میں بھوک ہڑتال کریں گے‘ ہمارے سیکرٹری اطلاعات اور دیگر رہنماؤں کو اٹھایا گیا‘ ملک میں جاری مہنگائی کی لہر اور ملک میں امن کے لیے کیمپ لگایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے وزیر داخلہ کی ترجمانی کی، وہ فارم 47 کی حکومت کو سہارا دینا چاہ رہے ہیں، لیکن حکومت کی کشتی میں اتنا پانی آگیا ہے کہ ان کو بچانا اب ناممکن ہے۔