بنگلہ دیش کی حکومت نے طلبہ تحریک کے قائدین کی گرفتاری شروع کردی ہے۔ ڈھاکہ میں ایک اسپتال سے تین طالب علم رہنماؤں ناہید اسلام، آصف محمود اور ابوبکر مجومدار کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اس پر شدید ردِعمل سامنے آرہا ہے۔ سیاسی مبصرین حیران ہیں کہ سرکاری ملازمتوں کے کوٹے پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کی گرد ابھی تو پوری طرح بیٹھی بھی نہیں اور شیخ حسینہ واجد کی حکومت انتقام لینے پر تُل گئی۔
طلبہ تحریک کے دوران ساڑھے پانچ ہزار سے زائد گرفتاریاں کی گئیں۔ ان میں سے ڈھائی ہزار طلبہ کو صرف ڈھاکہ سے گرفتار کیا گیا۔ ملک بھر میں طلبہ تحریکے آفٹر شاکس محسوس کیے جارہے ہیں یعنی گرفتاریاں جاری ہیں اور مقدمات قائم کیے جارہے ہیں۔
حالیہ طلبہ تحریک کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 204 ہوگئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چند زخمیوں کی حالت نازک ہے اس لیے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ دو ہفتوں تک ملک کم و بیش ساکت رہا۔ کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رہیں۔ اس کے نتیجے میں کروڑوں افراد کے لیے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
طلبہ تحریک کی روحِ رواں سمجھی جانے والی شخصیات کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا جارہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ عمل طلبہ تحریک کو نئی زندگی دے سکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اب جو تحریک اٹھے وہ حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کر بیٹھے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی حکومت جائے گی یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ملک کا کیا بنے گا۔
بنگلہ دیش کی معیشت کا بُرا حال ہے۔ عام آدمی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے۔ افلاس کا گراف بھی بلند ہو رہا ہے۔ لوگ سرکاری ملازمتوں کے حصول کے لیے سرگرداں رہتے ہیں کیونکہ صرف اِسی میں یہ طے ہے کہ ایک لگی بندھی رقم ملے گی اور ہر ماہ ملے گی۔
غیر ملکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کی حکومت زیادہ کامیاب نہیں رہی ہے کیونکہ وہ عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں زیادہ کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔ شیخ حسینہ مسلسل چوتھی بار اور مجموعی طور پر پانچویں بار بنگلہ دیش کی وزیرِاعظم بنی ہیں۔ عوام اچھی طرح دیکھ چکے ہیں کہ وہ کیا کرسکتی ہیں اور کیا نہیں کرسکتیں۔
بنگلہ دیش کے طول و عرض میں عوام بیدار ہوچکے ہیں۔ طلبہ تحریک نے تو انجن کے لیے صرف اگنیشن کا کردار ادا کیا۔ اگر حکومت نے اپنی روش تبدیل نہ کی، عوام دوست پالیسیاں نہ بنائیں اور افلاس و مہنگائی کا گراف نیچے لانے کے اقدامات نہ کیے تو طلبہ تحریک ہی کی طرز پر حکومت ہٹاؤ تحریک بھی شروع ہوسکتی ہے۔ اپوزیشن کی جماعتوں پر سرکاری میڈیا نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے طلبہ تحریک کو ہائی جیک کرکے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ یہ الزام ایک حد تک درست قرار دیا جاسکتا ہے مگر یہ بھی تو دیکھا جانا چاہیے کہ عوام حالات سے تنگ آچکے ہیں۔ اگر اپوزیشن کی جماعتیں ایک طرف ہٹ جائیں تب بھی عوام کسی بھی چلتی ہوئی تحریک کی گاڑی میں سوار ہونے کو ترجیح دیں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اُن کی آواز سُنی جائے، حکومت اُن کی طرف متوجہ ہو، اُن کے مسائل حل کرنے کے معاملے میں سنجیدہ ہو۔
بنگلہ دیش کی معیشت ایک مدت تک خرابی کا شکار رہی ہے۔ اس وقت بھی خرابیاں کم نہیں ہیں۔ سرکاری خزانے میں تو بہت مال ہے مگر سوال یہ ہے کہ عوام کو اِس سے کیا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ زرِمبادلہ کے ذخائر قابلِ رشک حد تک بڑھ چکے ہیں مگر یہ نہیں بتایا جارہا ہے کہ اِس میں حکومت کا کچھ خاص کمال نہیں۔ بیرونِ ملک کام کرنے والے بنگلہ دیشی جو رقوم وطن بھیجتے ہیں وہ قومی خزانے میں جاتی ہے۔ یوں حکومت کو ہاتھ پیر ہلائے بغیر زرِمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کا موقع مل جاتا ہے۔
اپوزیشن جماعتیں مطالبہ کرتی آئی ہیں کہ حکومت کاروبار اور سرمایہ کار دوست ماحول پیدا کرے تاکہ ملک آگے بڑھے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے جنوری کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جس میں شیخ حسینہ واجد کی پارٹی عوامی لیگ مسلسل چوتھی بار کامیاب رہی۔ بی این پی کا کہنا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کی تیاریاں بہت پہلے کرلی گئی تھیں اس لیے بائیکاٹ کے سوا چارہ نہ تھا۔
