فیصل آباد (آئی این پی)حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سچے عاشق رسول ﷺ اور مخلص دین دارتھے۔ حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ تما م موذنوں کے سردار تھے۔حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام علیہم الرضوان میں ہوتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ ان عظیم ہستیوں میں سے ہیں جن کو دنیا میں جنت کی بشارت دی گئی۔ان خیالات کا اظہار پاکستان سنی تحریک کے ڈویژنل صدر پروفیسر پیر محمد آصف رضا قادری نے حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کے یوم وصال کے موقع پر ’’عشق بلال سیمینار‘‘ سے سیکٹر آفس حاجی آباد میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو فتح مکہ کے موقع پر بیت اللہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دینے کا شرف حاصل ہے۔سیدناحضرت بلال رضی اللہ عنہ نے غزوہ بد ر، احد سمیت متعدد معرکوں میں شرکت فرمائی۔ آپ رضی اللہ عنہ تمام مہمات میں نبی کریم ﷺ کے ہمرکاب رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں امیہ بن خلف کو واصل جہنم کیا۔سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے 40احادیث مروی ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ کو رسالت مآب ﷺ کا خازن ہونے کا شرف حاصل تھا۔سیدناحضرت بلا ل حبشی رضی اللہ عنہ نے قبول اسلام کے بعد بے شمار ظلم و ستم سہے مگر دین اسلام کا دامن نہیں چھوڑا۔آپ رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے والے پہلے سات اصحاب میں شامل تھے۔ سیدناحضرت بلا ل حبشی رضی اللہ عنہ کو نبی پاک ﷺ نے خود سے پہلے جنت میں جانے کا فرمان جاری کیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ تقویٰ کی بنیاد پر قرآن مجید کی آیت کی عملی تفسیر ہیں۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا مقام ومرتبہ صحابہ کرام علہیم الرضوان میں بہت بلند تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو کمال درجہ کی فصاحت عطا فرمائی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ سے انتہا درجہ کا عشق تھا۔سیدناحضرت بلال رضی اللہ عنہ کا شمار اصحاب صفہ میں ہوتا ہے۔ سیدناحضرت بلال رضی اللہ عنہ حسب توفیق سائل کی معاونت فرماتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ کے ظاہر ی وصال کے بعدمرقدِ انور پر پانی چھڑکانے کا شرف حاصل ہے۔آپ رضی اللہ عنہ نے رنگ ونسل سے بالاتر ہو کر آداب ِ محمدی سکھائے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی کریم ﷺنے فرمایا بلال دنیا میں چلتے ہیں مگر ان کے قدموں کی آواز جنت میں آتی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی اذان میں جو جازبیت تھی کہ سننے والا آپ رضی اللہ عنہ کی اذا ن میں مگن ہوجاتا تھا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سیدنا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کہہ کرپکارتے تھے۔آپ رضی اللہ عنہ امیہ بن خلف کے غلام تھے،جو آپ رضی اللہ عنہ کو سخت سزائیں دیتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ نے امیہ بن خلف سے آزاد کروایا۔