ضلع کرم(آئی این پی )کرم ایجنسی کے دو قبائل کے درمیان فائربندی خلاف ورز ی کرتے ہوئے دونوں فریقین نے گزشتہ رات ایک دوسرے پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کے دوران مزید 8 افراد جاں بحق ہوگئے ۔ جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 44ہوگئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق کرم ایجنسی کے دوقبائل کے درمیان زمین کے تنازعہ پر تصادم شروع ہوا تھا فائر بندی کے اعلانات کل جی او سی میجر جنرل ذوالفقار علی بٹھی کے دورے اور جرگہ ممبران سے ملاقات کے بعد کیا گیا تھا اورضلع کرم کے دو قبائل کے درمیان فائربندی کر دی گئی تھی لوئر کرم بالشخیل و خار کلی میں رات گئے پھر فائرنگ شروع ہوگئی جسکے نتیجے میں فائرنگ سے مذید 08 افراد جان بحق ہوگئے فائرنگ سے 14 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں متاثرہ مقامات میں پولیس و فورسز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی۔ہسپتال زرائع کے مطابق ان جھڑپوں میں اب تک جان بحق افراد کی تعداد 44ہوگئی جبکہ 176افراد زخمی ہوئے ہیں پولیس نے بتایا کہ ہر متاثرہ علاقے میں پولیس و سیکیوریٹی کی بھاری نفری موجود ہے پاراچنار سے پشاور مین روڈ بھی ہر قسم کی آمدورفت کیلئے بند ہے دو قبائل کے مابین جھڑپیں چھٹے روز بھی جاری رہی فائربندی پر رضامندی کے باوجود لوئر کرم کے مختلف علاقوں میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے گاؤں بوشہرہ اور مالی خیل کے درمیان فائربندی کے بعد کسی قسم کی فائرنگ نہیں ہوئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق رات گئے مزید چار مقامات پر شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پاراچنار پشاور مین شاہراہ ہر قسم آمد و رفت کیلئے بند ہے سماجی رہنماء میر افضل خان کا کہنا ہے کہ مسلسل جھڑپوں اور راستوں کی۔ بندش کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے انہوں نے کہاکہ پشاوراسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں عوام نے جھڑپوں کے خلاف احتجاج شروع کیا ہے ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود کے مطابق ضلع کرم کے علاقے بوشہرہ میں فائربندی ہوگئی ہے باقی علاقوں میں فائربندی کے لئے انتظامیہ فورسیزاورامن جرگہ جدوجہد میں مصروف ہے۔