سکھر (نمائندہ جسارت) دریائے سندھ میں پانی کی قلت بدستور برقرار ہے، صورتحال میں بہتری نہ آنے کے باعث محکمہ آبپاشی انتظامیہ سکھر بیراج سے نکلنے والی نہروں کی سطح کو برقرار نہیں رکھ سکی ہے اور نہروں میں مطلوبہ سے کم مقدار پانی چھوڑا جارہا ہے، صورتحال کے باعث سکھر بیراج سے نکلنے والی دادو کینال میں 30 فیصد اور خیرپور ویسٹ کینال میں 30 فیصد پانی کی کمی برقرار ہے، جبکہ کیرتھر، نارو، روہڑی اور خیرپور ایسٹ کینال میں 10 فیصد پانی کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، ان نہروں میں سکھر بیراج کے اپنے حصے سے ہزار کیوسک اضافی پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں سکھر بیراج پر پانی کا بہاؤ میں کمی، ایک لاکھ 24 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، گیٹ نمبر 47 مکمل طور پر تیار کر کے نصب کر دیا گیا کسان گیٹ 31 تاریخ تک باہر نکال دیا جائے گا، بیراج کی سڑک موٹر سائیکلوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ دوسری جانب سکھر بیراج سے نکلنے والی نہروں کو پانی کی مطلوبہ مقدار کی عدم فراہمی کے باعث آبادگار کاشتکاروں کو سخت مشکلات کا سامنا درپیش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زرعی اراضی متاثر ہو رہی ہے، گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 82 ہزار کیوسک اور سکھر بیراج پر ایک لاکھ 24 ہزار کیوسک ہے تاہم اس کے باوجود کھیرتھر کینال میں 40 فیصد اور دادو کینال میں 30 فیصد پانی کی کمی برقرار ہے، کاشتکاروں نے مطلوبہ پانی چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔