امریکا نے کہا ہے کہ اُس کا حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کے قتل سے کوئی تعلق نہیں۔ قتل کے کم و بیش 10 گھنٹے گزرنے کے بعد امریکا نے اس قتل کے حوالے سے کچھ کہنے کی زحمت گوارا کی۔
امریکی وزیرِخارجہ انٹونی بلنکن کہتے ہیں امریکا کو اس معاملے میں نہ گھسیٹا جائے۔ یہ کام امریکا نے خود بھی نہیں کیا نہ ہی کسی سے کروایا ہے ۔
سنگاپور میں چینل نیوز ایشیا سے انٹرویو میں انٹونی بلنکن نے کہا کہ امریکا اب بھی چاہتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران بات چیت کے ذریعے ختم کیا جائے۔ اس کے لیے فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے۔
انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ ہمیں کچھ بھی علم نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے یا کیا ہونے والا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ کچھ ایسا ہوا ہے جس کے بارے میں سوچنا بھی مشکل ہے۔
جب یہ پوچھا گیا کہ اسماعیل ہانیہ کے قتل سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر کیا اثرات مرتب ہوں گے تو انٹونی بلنکن نے کہا کہ ایک مدت سے سیاست میں ہوں اور میں نے یہی سیکھا ہے کہ کسی بھی واقعے یا حادثے کے اثرات کے بارے میں بہت زیادہ نہیں سوچنا چاہیے کیونکہ واقعات ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اثرات زائل کرتے ہیں۔
انٹونی بلنکن ایک ہفتے سے ایشیائی ممالک کے دورہ کر رہے ہیں۔ چینل نیوز ایشیا سے انٹرویو میں انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کو چُھڑانا لازم ہے اور امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا۔
