حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) ملک بھر کے علماء مشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان میں شامل مختلف مکاتب فکر کے جید علماء مشائخ نے مبارک ثانی کیس کے فیصلے پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز میں دین اسلام کے خلاف کسی قسم کی کوئی قانون سازی نہیں ہو سکتی، پاکستان کے آئین اور قانون کی رو سے احمدی غیرمسلم اقلیت ہیں، انہیں شعائر اسلام کے استعمال کی ہرگز اجازت نہیں، وہ قرآن کریم کی تفسیر و ترجمہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کی تشہیر کر سکتے ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ جزو ایمان نہیں بلکہ عین ایمان ہے، عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ در حقیقت عقیدہ توحید کا تحفظ ہے۔ ان خیالات کا اظہار علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے سربراہ سفیر امن پیر صاحبزدہ احمد عمران نقشبندی سجادہ نشیں آستانہ عالیہ بھیج پیر جٹا کے اعلان پر مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے یوم ’’تحفظ عقیدہ ختم نبوت‘‘ کے حوالے سے ملک بھر کی مساجدمیں یو ایم ایف پی سے وابستہ مختلف مکاتب فکرکے جید علماء مشائخ نے خطبات جمعہ میں مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے یکسر مسترد کرتے ہوئے ختم نبوت کی آئینی شقوں اور امتناع قادیانیت آرڈیننس پر سپریم کروٹ کے متنازعہ فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے علماؤ مشائخ سمیت مسلمانوں کے ہر مکتبہ فکر کو غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی اپنی سطح پر پرامن احتجاج اور دینی و سماجی اجتماعات و تقریبات میں اس متنازع فیصلے کو واپس لینے کی قرار دادیں پیش کرنی چاہئیں، شریعت اسلامیہ اور آئین پاکستان سے متصادم فیصلہ پر فوری نظرثانی کی جائے۔ پیر صاحبزدہ احمد عمران نقشبندی سجادہ نشیں آستانہ عالیہ بھیج پیر جٹا نے کہا کہ آج بھی ہم ہر پلیٹ فارم پر منکرین ختم نبوت اور ان کے حواریوں و ہمدردوں کیخلاف ہر قانونی و آئینی جنگ لڑنے کیلیے تیار ہیں، اُمت مسلمہ کو مسلکی تعصبات سے بالا تر ہوکر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلیے اپنی جدوجہد کو مزید منظم انداز میں آگے بڑھانا ہو گا، پاکستان کے آئین میں طے شدہ احمدی حیثیت کو ختم نہیں ہونے دیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ موجودہ اور سابقہ حکومتیں احمدیوں کو نوازنے میں لگی ہوئی ہیں، ہم بھی تیار ہیں اور انہیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ قرآن و سنت اور اجماعِ اُمت میں حضور ﷺ اللہ عزوجل کے آخری نبی و رسول ہیں، اب قیامت تک کوئی نبی یا رسول نہیں آئیگا مگر مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار اس بات پر ایمان نہیں رکھتے اسی لیے قرآن و سنت اور پاکستان کے آئین و قانون کی رو سے احمدی غیرمسلم ہیں، کافر ہیں اور دین اسلام سے اُن کا کوئی لینا دینا نہیں، اس سب کے باوجود آج وہ وطن عزیز میں خود کو کھلے عام مسلمان کہلاتے ہیں، شعائر اسلام کا مذاق اُڑاتے ہیں، قرآن کریم کی خود ساختہ تفسیر نہ صرف شائع کرتے ہیں بلکہ اس کی تشہیر بھی کرتے ہیں۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے مبارک ثانی کیس کا غیر آئینی، غیر قانونی، مبہم اور ناقابل یقین فیصلہ سامنے آیا ہے، علماء کرام،مشائخ عظام و خطباء حضرات متنازع فیصلے کو واپس لینے تک ہر جمعہ کے خطبات میں عام مسلمانوں کو’’عقیدہ ختم نبوت و تحفظ ناموس رسالت، قرآن و سنت اور آئین پاکستان اور امتناع قادیانیت آرڈیننس کی روشنی میں‘‘ کے موضوع پر آگاہی فراہم کریں۔