
دوحا/ تل ابیب/ واشنگٹن(صباح نیوز +آن لائن+مانیٹرنگ ڈیسک) تہران میں شہید ہونے والے فلسطین کے سابق وزیر اعظم اور حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ شہید اسماعیل ہنیہ کو قطر کے دارالحکومت دوحا میں سپرد خاک کردیا گیا۔ نماز جمعہ کے بعد اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ مسجد امام محمد بن عبدالوہاب میں ادا کی گئی، جس میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد، امیر قطر کے والد، حماس رہنما خالد مشعل، اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں، حماس، فلسطینی تنظیموں الفتح اور اسلامی جہاد کے نمائندوں اور دنیا بھر سے آئے اہم افراد نے شرکت کی، فضا نعرہ تکبیر اور کلمہ شہادت سے گونجتی رہی ۔شہید حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو دوحا کے الوسیل قبرستان میں علامہ یوسف القرضاوی کے پہلو میں سپرد خاک کردیا گیا، شرکا ایک دوسرے سے گلے لگ کر رونے لگے۔ادھر ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد حسین باقری نے کہا ہے کہ اسرائیل سے حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا بدلہ لینے کا طریقہ زیر غور ہے۔ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔میجر جنرل محمد حسین باقری نے مزید کہا کہ اسرائیل کے خلاف کئی اقدامات کیے جانے چاہئیں، اسرائیل کو ہر حال میں پچھتانا پڑے گا دوسری جانب امریکا کے صدر جوبائیڈن اور نائب صدر کاملا ہیرس کا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا نے اسرائیل کے لیے خطے میں مزید فوجی بھیجنے کا فیصلہ کرلیا۔اسرائیل کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈورن حملوں سے بچانے کے لیے مزید دفاعی سامان بھیجنے پر بات چیت ہوئی۔وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ ایران، حماس، حزب اللہ اور حوثیوں سے اسرائیل کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق فلسطین کے سابق وزیر اعظم اور حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ شہید اسماعیل ہنیہ اور ان کے محافظ وسیم ابو عثمان کو دوحا کے الوسیل قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا ہے ۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے لیے ہزاروں سوگوار اشک بار آنکھوں اور آزادی فلسطین کی جدوجہد کو جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ امام محمد بن عبدالوہاب مسجد میں جوق در جوق جمع ہوئے۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد فرزند اسلام شہید اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ جس کے لیے دنیا بھر سے اعلیٰ سطح کے وفد بھی پہنچے تھے،افغانستان میں طالبان کے نائب وزیر اعظم مولوی عبدالکبیر بھی قطر پہنچے ۔ اسماعیل ہنیہ اور ان کے محافظ وسیم ابو عثمان کی نماز جنازہ دوحا کی عظیم مسجد امام محمد بن عبدالوہاب میں ادا کی گئی جب تدفین الوسیل کے قبرستان میں کی گئی۔اس موقع پر تا حد نگاہ لوگ ہی لوگ تھے گویا انسانوں کا سیلاب امڈ آیا تھا۔ سوگواروں نے فلسطینی پرچم تھامے ہوئے ہیں اور فضا نعرہ تکبیر اللہ اکبر اور کلمہ شہادت سے گونجتی رہی تھی۔فخر اسلام کی میت کو کاندھوں پر اٹھائے تمام راستے شرکا نم آنکھوں کے ساتھ امت مسلمہ کے عروج اور فلسطین کو صہیونی ریاست کے شکنجے سے آزادی دلانے میں اپنی جان قربان کرنے والے اسماعیل ہنیہ کو خراج تحسین پیش کرتے رہے۔ اسماعیل ہنیہ کے جسد خاکی کو قبر میں اتارا گیا تو فضا اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھی اور شرکا ایک دوسرے سے گلے لگ کر رونے لگے۔ فلسطینی پرچم ہوا میں سربلند اور لہراتا رہا۔دعائے مغفرت میں فلسطین کی آزادی اورصہیونی ریاست کے خاتمے کی دعا بھی کی گئی۔ قرآنی آیات کی تلاوت سے فضا کو معطر کیا جاتا رہا اور یوں شرکا کے جدوجہدِ آزادی فلسطین کے عزم کے ساتھ اس عظیم رہنما کا سفرِ آخر تمام ہوا۔ اسماعیل ہنیہ حماس کی بین الاقوامی سفارت کاری کا چہرہ رہے ہیں اور غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران سیزفائر کے لیے ہونے والے مذاکرات کا بھی حصہ رہے 1962 میں شمالی غزہ میں پیدا ہونے والے اسماعیل ہنیہ نے ابتدائی تعلیم بطور ایک پناہ گزین اقوام متحدہ کے سکول سے حاصل کی۔ اسماعیل ہینہ اپنی نوجوانی میں ہی فلسطین کی جدوجہد آزادی سے منسلک ہوئے اور 80 اور 90 کی دہائیوں میں متعدد بار اسرائیل کی جیلیں کاٹیں اسماعیل ہنیہ حماس کے بانی شیخ احمد یٰسین کے ذاتی سیکرٹری کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے۔ 2017 میں اسماعیل ہنیہ کو حماس کے سیاسی دفتر کا سربراہ مقرر کیا گیا جو حماس کے رہنمائوں کا اعلیٰ ترین دفتر کہلاتا ہے سیاسی دفتر کے سربراہ ہونے کی وجہ سے ہنیہ کو حماس کا سربراہ بھی کہا جاتا تھا۔