کوٹری (نمائندہ جسارت) چیمبر آف کامرس جامشورو کے صدر و کنونیئر ملک یاسر اقبال سمیت نوری آباد و حیدرآباد چیمبر زکے عہدیداروں اور صنعتکاروں نے کہا ہے کہ سندھ کے 3 بڑے صنعتی زونز کوٹری ،نوری آباد اور حیدرآباد میں بجلی کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈ نگ کے ساتھ بجلی کے بلوں میں عائد اضافی چارجز نے معیشت کو بری طرح متاثرکیا ہے جس سے نچلے طبقے کے تاجر سمیت صنعتکاروں کی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بجلی کے بلوں میں ہوشرباء اضافے اور زیادتیوں کے خلاف احتجاجی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ ملک یاسر اقبال نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اضافی اعلانیہ وغیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے معیشت پر منفی اثرات پڑرہے ہیں جس سے مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے، نہ صرف حیسکو کے بلوں کی مدمیں بھی یہ صنعتی زون اربوں روپے ادا کر رہا ہے اور نوری آباد و کوٹری سے 100 فیصد ریکوری ہو رہی ہے، پھر بھی کوٹری صنعتی علاقے کئی گھنٹے بجلی سے محروم ہیں تو ایسے میں صنعتکار کس طرح اپنا کاروبار چلاسکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ صنعتی زون کے صنعت کاروں اور چیمبر کے عہدیداران کی بات سننے کے لیے حیسکو کے چیف ایگزیکٹو سمیت افسران تیار نہیں، حیسکوچیف کو فوری تبدیل کرکے ان کی جگہ نیا آفیسر تعینات کیا جائے ۔ اس لیے ہم سب نے مل کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ کوٹری، نوری آباد اور حیدرآباد کی تقریباً 1000 سے زائد فیکٹریاں اور کارخانے بند کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں جس سے انڈسٹری سے جڑے سیکڑوں افرادبے روزگار ہوجائیں گے اور ایک کروڑ سے زائد متاثر ہوں گے، تینوں صنعتی زونز کے عہدیداران و صنعتکاروں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے بلوں میں اضافے، کیپسٹی چارجز کی مدفی یونٹ 24روپے کی وصولی ختم کی جائے تاکہ تاجروں، بلڈرز سمیت کمرشل و گھریلو صارفین کو ریلیف مل سکے۔ پریس کانفرنس میں جامشورو چیمبر کے صدر ملک یاسر اقبال، صنعتکار میاں توقیر، آباد کے وائس چیئرمین ذوالفقار فاروقی، حیدرآباد چیمبر کے کاشف شیخ، حیدرآباد سائٹ کے شاہد قائم خانی، حیدرآباد دال ملز ایسوسی ایشن کے دولت رام لوہانہ ، حیدرآباد چیمبر کے احسن ناغڑ سمیت دیگر صنعتکاروں اورچیمبرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔