اسلام آباد/کراچی /لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک /صباح نیوز ) وادی کاغان کے علاقہ گھنول اور منور ویلی میں مون سون کی بارشوں نے تباہی مچادی، مہانڈری میں سیلابی ریلا 16 دکانوں کو بہاکر لے گیا جبکہ شاہراہ کاغان بھی تاحال بحال نہ ہوسکی۔جولائی کے مقابلے اگست میں زیادہ بارشیں ہوں گی جس سے بلوچستان اور سندھ کے شہروں میں فلیش فلڈنگ ہوسکتی ہے۔ کراچی اور سندھ میں آج سے بارشوں کے سلسلے میں شدت کا امکان ہے، تین سے چار دن تک بالائی سندھ میں تیز بارشیں متوقع ہیں۔ اس عرصے کے دوران بلوچستان کے شمال مشرقی اضلاع میں بھی تیزبارش کا امکان ہے۔ شمال مشرقی بلوچستان اور سندھ بلوچستان کیرتھر پہاڑی سلسلے میں اور ڈیرہ غازیخان میں بھی مزید تیز بارشوں کا امکان ہے، بارشوں کا یہ اسپیل چھ اور سات اگست تک چلے گا۔حالیہ مون سون کی بارشوں نے کاغان ویلی میں تباہی مچادی جس سے منور کے رہائشی ماں بیٹا جاں بحق جبکہ مہانڈری میں
16دوکانیں بھی دریا اور منور نالہ اپنے ساتھ بہا کر لے گیا۔ شاہراہ کاغان پر مہانڈری کے مقام پر قائم پل ٹوٹنے سے کئی سیاح اور مقامی افراد کاغان ویلی میں محصور ہوگے ہیں۔منور ویلی میں چھوٹے 12پل ٹربائن جبکہ وادی کی گئی رابط سڑکیں بھی ٹوٹ گئین جبکہ درجنوں ٹراؤٹ فش فارمز ٹوٹنے سے کروڑوں کا نقصان ہوگیا۔چیف سیکریٹری خیبر پختونخواہ چوہدری ندیم اسلم بھی کاغان ویلی پہنچ گے، ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے شبیر خان اور ڈی سی مانسہرہ نے بریفننگ دی‘ کے ڈی اے نے سیاحوں کو باحفاظت نکال لیا پل کو ایک ہفتہ تک نصب کرکے شاہراہ کاغان کو بحال کریں گے۔شاہراہ کاغان کی بحالی کے لئے این ایچ اے کی بھاری مشینری کام کررہی ہے تاہم نالہ سے پانی کا بہائو کم ہونے کے بعد عارضی طور پر چھوٹی گاڑیوں کے لئے راستہ بحال ہو جائے گا عوام نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امدادی سرگرمیوں کی رفتار تیز کرکے عوامی مشکلات کم کی جائیں۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ جولائی کے مقابلے اگست میں زیادہ بارشیں ہوں گی جس سے بلوچستان اور سندھ کے شہروں میں فلیش فلڈنگ ہوسکتی ہے۔چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ کراچی اور سندھ میں آج سے بارشوں کے سلسلے میں شدت کا امکان ہے، تین سے چار دن تک بالائی سندھ میں تیز بارشیں متوقع ہیں۔ اس عرصے کے دوران بلوچستان کے شمال مشرقی اضلاع میں بھی تیزبارش کا امکان ہے۔ شمال مشرقی بلوچستان اور سندھ بلوچستان کیرتھر پہاڑی سلسلے میں تیز بارش کا امکان ہے، ڈیرہ غازیخان میں بھی مزید تیز بارشوں کا امکان ہے، بارشوں کا یہ اسپیل چھ اور سات اگست تک چلے گا۔ملک کے مختلف حصوں میں آج بھی طوفانی بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ جس سے لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی میں نشیبی علاقے زیرآب آنے کا خدشہ ہے۔گوجرانوالہ، شیخوپورہ، قصور اور سیالکوٹ میں بھی بارش کا امکان ہے۔ سرگودھا، فیصل آباد، نوشہرہ اور پشاور میں بارش کا امکان ہے طوفانی بارشوں سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے، مری، گلیات، کشمیر اور گلگت میں لینڈ سلائیڈنگ کا اندیشہ ہے، سندھ میں بھی بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آنے کا خدشہ ہے۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ تمام متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کر دی ہیں ۔ملک کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارش نے جل تھل ایک کردیا، نشیبی علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا، متعدد اضلاع میں بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا، سیلابی ریلے رابطہ پلوں کو بہا لے گئے۔پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں تیز بارش کے دوران مختلف حادثات میں کئی افراد لقمہ اجل بنے سیلابی ریلے کچے مکانات کو بہا لے گئے۔دادو کے علاقے کاچھو میں کیرتھر پہاڑی کے سیلابی ریلے میں 6 سالا بچہ بہہ گیا۔راجن پور میں 20 سالہ نوجوان سیلابی نالے کی نذر ہوا، خان پور میں فیروزہ روڈ پر بارش کے دوران سڑک پر پھسلن سے گاڑی الٹ گئی، حادثے میں 6 افراد زخمی ہوئے۔گوجرانوالہ کے نواحی علاقہ اروپ میں بنیادی مرکز صحت برساتی اور سیوریج کے پانی میں ڈوب گیا۔ پنجاب کے مختلف اضلاع میں طوفانی بارشوں سے فصلوں کو نقصان پہنچا۔بلوچستان کے علاقے شیرانی، موسیٰ خیل، بارکھان سبی، ڈیرہ بگٹی، خضدار، لسبیلہ میں بھی موسلادھار بارش ہوئی۔ بلوچستان میں سیلابی صورتحال کے باعث این ڈی ایم اے نے نیا الرٹ جاری کردیا۔