ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

غزہ: زمینی کارروائی کیلئے پہنچنے والے 2 اسرائیلی میجرز جہنم واصل،مزید 25 فلسطینی شہید

غزہ /واشنگٹن/دوحا(مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ کے وسطی علاقے میں جنگی ساز و سامان کی منتقلی کے دوران ہونے والے ایک بم دھماکے میں 2 اسرائیلی فوجی مارے گئے جب کہ متعدد زخمی ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق ملکی فوج کے ترجمان نے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے میجر 34 سالہ یوتم اِتزاک پیلڈ ایک لاجسٹک آفیسر تھے جب کہ میجر موردچائی یوسف فوجی ٹرک چلا رہے تھے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دونوں میجرز یروشلم بریگیڈ کی 8119 ویں بٹالین کے ساتھ منسلک تھے اور دھماکے کے وقت پیلڈ غزہ کے زیتون محلے میںکارروائی کے لیے فوجیوں کو سامان کی فراہمی کے قافلے میں شامل تھے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے لاجسٹک قافلے کے راستے میں بم حماس نے نصب کیا تھا اور بم نصب کرنے والوں نے دھماکے کے بعد اسرائیلی فوجیوں پر فائرنگ بھی کی جس سے متعدد اہلکار زخمی ہوگئے۔ یاد رہے کہ غزہ میں اسرائیل کی بری فوج 27 اکتوبر کو داخل ہوگئی تھی اور تب سے حماس کے ساتھ ہونے والی دوبدو جھڑپوں کے دوران ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 334 ہوگئی۔7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے میں مارے گئے 1500 کے قریب اسرائیلی فوجیوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ادھر امریکا کے صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کی ڈیل کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ قریب پہنچ چکے ہیں۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے بغیر دوحا میں امریکا، اسرائیل، قطر اور مصر کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نئے دور کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ وہ بہت زیادہ پر امید ہیں کہ غزہ جنگ بندی مذاکرات طے پا جائیں گے، غزہ میں جنگ بندی سمجھوتے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ قریب پہنچ چکے ہیں۔حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے حوالے سے ایران کی جوابی کارروائی کے خدشے پر امریکی صدر نے کہا کہ خطے میں کسی بھی ملک کو امن مذاکرات کی کوششوں کو متاثر نہیں کرنا چاہیے۔دوسری جانب حماس نے غزہ جنگ بندی کے حوالے سے قطر میں ہونے والے مذاکرات کے نتائج پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ پہلے امریکا نے جو تجاویز پیش کی تھیں ان پر عمل درآمد کرائے ۔امریکا، مصر اور قطر کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے ایک تجویز پیش کی ہے جس سے اسرائیل اور حماس کے درمیان دوریاں کم ہوں گی۔ غزہ جنگ بندی کے حوالے سے امریکا، اسرائیل، قطر اور مصر کے درمیان مذاکرات کا دوسرا قاہرہ میں شروع ہو گا جبکہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن غزہ میں جنگ بندی کے لیے فریقین سے ملاقات کرنے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کے دورے پرہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کا پہلا پڑاؤ اسرائیلی دارالحکومت میںہوگا جہاں وہ اعلیٰ سطح کی اسرائیلی قیادت سے ملاقات کریں گے اور انہیں جنگ بندی پر راضی کرنے کی کوشش کریں گے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ جنگ بندی کا کون سا منصوبہ لے کر انٹونی بلنکن اپنے اتحادی اسرائیل کے دورے پر گئے ہیں اور کیا وہ ان شرائط پر حماس اور فلسطین اتھارٹی کی قیادت کو منا پائیں گے۔ قبل ازیں غزہ پر اسرائیلی فورسز کے حملوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 25 فلسطینی شہید ہوگئے، جن میں 6 بچے بھی شامل ہیں۔اسرائیلی فوج کی جانب سے اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔اسرائیلی فوج کے حملے میں شہید ہونے والے بچوں کے دادا محمد خطاب نے جنازے کے موقع پربات کرتے ہوئے کہا ’ان کا جرم کیا تھا، کیا انہوں نے کسی یہودی کو قتل کیا، کیا انہوں نے یہودیوں پر گولی چلائیِ کیا انہوں نے یہودیوں پر راکٹ داغے، کیا انہوں نے اسرائیل کی ریاست کو تباہ کیا، آخر ان کا قصور کیا تھا؟۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں