
سکھر (نمائندہ جسارت) صوبائی وزیر منصوبہ بندی ترقیات و توانائی سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سکھر سمیت سندھ بھر میں سولر پارکس تعمیر اور عوام کو سولر پینلز کی تقسیم جلد شروع کر رہے ہیں۔ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ستمبر میں ڈیٹابیس کے تحت 2 لاکھ سولر پینل تقسیم کر رہے ہیں، اس کے علاوہ 5 لاکھ مزید سولر پینل تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، اس وقت سولر پینل، ایک پنکھا، 3 بلب، ایک چارجر اور بیٹری دے رہے ہیں جس کا جلد آغاز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی آئی پی پیز کے معاہدوں کی وجہ سے اس کا ٹیرف کم نہیں ہو رہا، انرجی ڈپارٹمنٹ میں سیپرا کو فعال کیا ہے جس سے بجلی کا ٹیرف کم کر سکتے ہیں، سولر، ونڈ کے مکس سے سیپرا کے ذریعے اس کا ٹیرف کم کرسکتے ہیں، 18 روپے فی یونٹ میں پڑے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حالیہ بارش تاریخی تھی، تمام ریکارڈ ٹوٹے، میونسپل کارپوریشن، ضلعی انتظامیہ سمیت تمام اداروں نے بہترین کام کیا، تھرکول اور ریل لائن کے منصوبے طے ہیں، تیل کی برآمد پر کافی خرچہ ہوتا تھا، سندھ اور وفاقی حکومت مل کر تھرکول پر کام کررہی ہے، نگراں حکومت نے طے کیا کہ سندھ حکومت کے پیسے لون ہوں گے جو سندھ کو واپس کیے جائیں گے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لیے ہمیشہ کہا کہ پی ٹی آئی کو قومی دھارے میں شامل ہونا پڑے گا، پی ٹی آئی کی پولیٹیکل سوچ رکھنے والے دوست اپنی سوچ بدلیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جتنی بھی موٹر وے بنی ہیں، وہ پورٹ سٹی سے شروع ہوتی ہیں، پاکستان واحد ملک ہے جہاں پورٹ کے بجائے دیگر علاقوں سے کام شروع کیا گیا۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ افسوسناک واقعہ پیش آیا جب ہمارے پنجاب پولیس پر بھی حملہ کیا گیا اور ہمارے جوانوں کو شہید کیا گیا، واقعے میں ملوث مجرمان کو سخت سزائیں دلوائی جائیں گی، ڈاکوئوں کے خلاف بڑے آپریشن کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے، جلد بڑا آپریشن ہونے جا رہا ہے۔ ایران روڈ حادثے پر انہوں نے کہا کہ قوانین کو سخت کیا ہے تاکہ جو لوگ بھی اس طرح کے کارواں لے جاتے ہیں، یہ چیک کیا جائے کہ ان گاڑیاں فٹ ہیں یا نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مخدوم جمیل الزمان ہمارے لیے محترم ہیں، وہ بڑے ہیں، بڑے اس طرح کی باتیں کرتے رہتے ہیں، انہوں نے بیان دیا ہے کہ وہ پارٹی کے ہیں اور پارٹی کے رہیں گے، وہ چاہتے ہیں کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری وزیر اعظم بنیں، پارٹی میں اختلافات اور رنجشیں ہوتی رہتی ہیں، کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں سکھر سے تین، تین فلائٹ تھیں صرف سکھر نہیں بلکہ بلوچستان کے قریبی اضلاع کے لوگ بھی سکھر ائر پورٹ استعمال کرتے ہیں، سکھر کے لیے زیادہ فلائٹ ہونا چاہیے، یہ معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ اُٹھائیں گے۔