ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بھارتی طلبہ میں خود کشی کی شرح نے خطرناک شکل اختیار کرلی

بھارت بھر کے طلبہ میں خود کشی کا رجحان تیزی سے پنپ رہا ہے۔ کبھی کسانوں میں خود کشی کا رجحان بہت قوی تھا۔ بھاری قرضے لے کر فصل تیار کرنے والے کسان جب اپنی فصل کو معیاری قیمت پر بیچ نہیں پاتے تھے یا موسم کے ہاتھوں فصل خراب ہو جاتی تھی تب وہ مایوس ہوکر خود کشی کرلیا کرتے تھے۔ کسان اب بھی خود کشی کر رہ ہیں مگر یہ رجحان اُن میں بہت حد تک دم توڑ چکا ہے۔

اب بھارت کی تقریباً تمام ہی ریاستوں میں طلبہ مایوسی کا شکار ہوکر خود کشی پر مائل ہو رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ طلبہ میں کسانوں سے کہیں زیادہ خود کشی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ اس معاملے میں اُنہوں نے خود کشی کے ملک گیر اعداد و شمار کو بھی شکست دی ہے اور مجموعی آبادی میں شرحِ نمو کو بھی۔

ویسے تو پورے بھارت ہی میں طلبہ خود کشی کی طرف مائل ہیں تاہم مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور تامل ناڈو اس معاملے میں سرِفہرست ہیں۔ بدھ کو سالانہ آئی سی تھری کانفرنس اینڈ ایکسپو میں “اسٹوڈنٹس سوسائیڈز: این ایپیڈیمک سوئیپنگ انڈیا” کے زیرِعنوان پیش کی جانے والی رپورٹ میں بتا گیا ہے کہ بھارت کے طلبہ میں خود کشی کا رجحان انتہائی خطرناک شکل اختیار کرچکا ہے۔ اُن میں مایوسی کا گراف بلند سے بلند تر ہوتا جارہا ہے۔

پولیس میں درج کرائی جانے والی ایف آئی آرز کی بنیاد پر نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو میں تیار کی جانے والی ڈیٹا بیس کے مطابق بھارت بھر میں خود کشی کے رجحان میں سالانہ بنیاد پر 2 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ طلبہ میں خود کشی کے واقعات کی یہ اضافہ 4 فیصد ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طلبہ میں خود کشی کے بہت سے واقعات پولیس کو رپورٹ نہیں کیے جاتے یعنی صورتِ حال اُس سے زیادہ بھیانک ہے جتنی ہمیں دکھائی دے رہی ہے۔

آئی سی تھری ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو دنیا بھر میں تعلیمی اداروں، متعلقہ حکومتی محکموں، وزارتوں اور اداروں اور طلبہ کی راہ نمائی کرتی ہے۔ اس تنظیم کا بنیادی مقصد طلبہ کو بہتر مستقبل کے لیے تیار ہونے کی غرض سے جامع راہ نمائی فراہم کرنا ہے۔

بھارت میں 15 سے 24 سال تک کے ہر 7 میں سے ایک فرد کو کسی نہ کسی قسم کے شدید ذہنی دباؤ یا تناؤ کا سامنا ہے۔ اُس پر زندگی شروع کرنے کا بھی دباؤ ہوتا ہے اور بہت زیادہ کر دکھانے کا بھی۔ والدین اور چھوٹے بہن بھائی بھی امیدیں وابستہ کیے ہوتے ہیں۔ اگر نوجوان یہ محسوس کرے کہ وہ اِن امیدوں پر پورا نہیں اتر پائے گا تو اُس میں مایوسی پیدا ہونے لگتی ہے۔

بچوں کی بہبود سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی رپورٹ “دی اسٹیٹ آف دی ورلڈز چلڈرن” کے مطابق بھارت میں 15 سے 24 سال کے جن نوجوانوں کا سروے کیا گیا اُن میں سے 41 فیصد نے صاف صاف کہا کہ شدید ذہنی دباؤ سے وہ اپنے طور پر نپٹ نہیں سکتے اس لیے ماہرین کی ضرورت ہے۔

بھارت میں خود کشی کے جتنے واقعات ہوتے ہیں اُن میں سے 7.6 کا تعلق طلبہ سے ہے۔ 10 سال کے دوران لڑکوں میں خود کشی کے واقعات 50 فیصد بڑھے ہیں جبکہ لڑکیوں میں 61 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ پانچ سال کے دوران لڑکوں اور لڑکیوں میں مجموعی طور پر خود کشی کے واقعات 5 فیصد سالانہ کی رفتار سے بڑھے ہیں۔

بھارت بھر میں خود کشی کے واقعات میں سے ایک تہائی کا تعلق مہاراشٹر، تامل ناڈو اور مدھیہ پردیش ہے۔ اتر پردیش آبادی کے اعتبار سے ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے اور یہاں کے طلبہ میں بھی خود کشی کے واقعات بڑھے ہیں۔ طلبہ کی خود کشی کے حوالے سے دیگر نمایاں ریاستوں میں راجستھان اور جھاڑ کھنڈ شامل ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں