ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بیجنگ میں سلیوان اور وانگ مذاکرات،کیا سربراہی ملاقات کا امکان ہے؟

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان بدھ کے روز بیجنگ میں ملاقات ہوئی جس میں دونوں ملکوں کے سربراہوں کے درمیان ممکنہ ملاقات اور بحیرہ جنوبی چین میں کشیدگی کے موضوعات زیر بحث آئے۔

اس سے ایک روز قبل بھی دونوں عہدے داروں کے درمیان بات چیت ہوئی تھی۔

دونوں فریقوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بدھ کی بات چیت ٹھوس، تعمیری اور صاف گوئی پر مبنی تھی۔ چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی شہنوا نے وزیر خارجہ وانگ کے حوالے سے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے سربراہوں کی رہنمائی میں چین اور امریکہ کے تعلقات کو درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک بیان کے مطابق، دونوں عہدے داروں نے آئندہ ہفتوں میں سربراہوں کی سطح کی بات چیت کی منصوبہ بندی پر تبادلہ خیال کیا۔

سنہوا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں عہدے داروں نے امریکی صدر جو بائیڈن اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ممکنہ ملاقات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

امریکہ اور چین کے وفود کے درمیان بینجنگ میں ملاقات کا ایک منظر۔ 27 اگست 2024

امریکہ اور چین کے وفود کے درمیان بینجنگ میں ملاقات کا ایک منظر۔ 27 اگست 2024

اس ملاقات کے بارے میں چین کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، سلیوان اور وانگ نے فوج سے فوج کے درمیان رابطوں اور فوجی کمانڈروں کے درمیان ویڈیو کالز کی اہمیت پر بھی بات چیت کی۔

چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے وانگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین اور امریکہ کی ہموار ترقی ایک دوسرے سے مساوی برتاؤ میں ہے۔

دونوں عہدے داروں نے آبنائے تائیوان میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وانگ نے واشنگٹن کی جانب سے فلپائن کی حمایت کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔


امریکہ اور چین کے جھنڈوں کے پس منظر میں ایک کمپیوٹر چپ کا سرکٹ نظر آ رہا ہے۔ امریکہ نے چین سے کمپیوٹر چپ پر درآمدی محصولات لگا دیے ہیں۔ 17 فروری 2023

امریکہ اور چین کے جھنڈوں کے پس منظر میں ایک کمپیوٹر چپ کا سرکٹ نظر آ رہا ہے۔ امریکہ نے چین سے کمپیوٹر چپ پر درآمدی محصولات لگا دیے ہیں۔ 17 فروری 2023

سی سی ٹی وی کے نشریے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو دو طرفہ معاہدوں کو چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے بہانے کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سلیوان نے’ جنوبی بحیرہ چین میں فلپائن کی قانونی کارروائیوں کے خلاف اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا۔‘

چین کے بحری جہازوں کا جنوبی بحیرہ چین میں فلپائن کے کئی بحری جہازوں سے آمنا سامنا ہو چکا ہے، جس پر واشنگٹن کو اس لیے تشویش ہے کیونکہ اس کا منیلا کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے۔

دونوں عہدے داروں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں جن دیگر موضوعات پر گفتگو ہوئی، ان میں تائیوان پر چین کے علاقائی دعوے اور چینی تجارتی سامان پر امریکہ کی جانب سے عائد کیے جانے والے حالیہ محصولات ہیں۔


اس تصویر میں جنوبی بحیرہ چین کے متنازع حصے سے چین کے کوسٹل گارڈ کا ایک جہاز فلپائن کے جہاز کا راستہ کاٹ کر گزر رہا ہے۔ چین اور فلپائن دونوں ہی اس علاقے کی ملکیت کے دعویدار ہیں۔ چین اب متنازع پانیوں میں اپنے فوجی منصوبوں کے لیے تیرتے ہوئے جوہری بجلی گھر بھیجنا چاہتا ہے۔

اس تصویر میں جنوبی بحیرہ چین کے متنازع حصے سے چین کے کوسٹل گارڈ کا ایک جہاز فلپائن کے جہاز کا راستہ کاٹ کر گزر رہا ہے۔ چین اور فلپائن دونوں ہی اس علاقے کی ملکیت کے دعویدار ہیں۔ چین اب متنازع پانیوں میں اپنے فوجی منصوبوں کے لیے تیرتے ہوئے جوہری بجلی گھر بھیجنا چاہتا ہے۔

وانگ نے سلیوان سے کہا کہ امریکہ کو تائیوان کو مسلح کرنا بند کر دینا چاہیے اور ان دونوں حصوں کے پرامن طریقے سے دوبارہ جڑنے کی حمایت کرنی چاہیے۔

وانگ کا کہنا تھا کہ تائیوان چین کا حصہ ہے اور تائیوان کی آزادی آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

چین کے بیان میں امریکہ کی طرف سے چین کے تجارتی سامان پر محصولات عائد کرنے کے اقدام کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ واشنگٹن کو چین کے جائز مفادات کو خطرے میں ڈالنے کا اقدام نہیں کرنا چاہیے۔

جب کہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ چین غیرمنصفانہ تجارتی طریقے استعمال کر رہا ہے اور امریکہ ایسے ضروری اقدامات کرتا رہے گا جس سے جدید امریکی ٹیکنالوجیز کو ہمارے ملک کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے استعمال سے روکنے میں مدد مل سکے۔

دونوں اعلیٰ عہدے داروں کے درمیان بات چیت جمعرات کو بھی جاری رہنے کی توقع ہے۔

(وی او اے نیوز)

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں