غزہ/واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ میں اسرائیلی فورسز کے بے گنا ہ فلسطینیوں پر حملے جاری ہیں، 24گھنٹوں میں مزید 42فلسطینی شہید، 107 زخمی کردیے۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق صیہونی فضائیہ نے رہائشی عمارتوں، پناہ گزین کیمپوں اور کالج کو نشانہ بنایا، شمالی غزہ میں اسرائیلی حملے میں 6فلسطینی شہید، متعدد افراد زخمی ہو گئے جبکہ صیہونی فوج نے نصیرات کیمپ کو نشانہ بنایا، 1 فلسطینی شہید،5زخمی ہوگئے۔دوسری جانب خان یونس میں اسرائیلی بمباری سے بچے سمیت 2 فلسطینی شہید ہوگئے، غزہ میں کالج اور رہائشی عمارت پر اسرائیلی بمباری سے 9 فلسطینی شہید ہوگئے، مغربی کنارے پر بھی اسرائیلی آپریشن ایک ہفتے سے جاری ہے، صہیونی فورسز نے اب تک 2 بچوں سمیت 33 فلسطینی شہید کو کر دیا۔واضح رہے غزہ میں اسرائیل کی پرتشدد کارروائیوں میں اب تک 40ہزار 861 فلسطینی شہید، 94ہزار 398 زخمی ہو چکے ہیں۔دوسری جانب امریکا نے اسرائیل پر 7 اکتوبر 2023 ء کے حملے کا جواز بنا کر حماس کے سرکردہ رہنماؤں پر فرد جرم عاید کر دی جس نے غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے امریکا کی ثالثی کے کردار پر سوالات کو جنم دیا ہے۔امریکی محکمہ انصاف نے حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ، محمد دائف اور مروان عیسیٰ سمیت 6 مرکزی رہنماؤں پر فرد جرم عاید کی ہے۔ اس فہرست میں حماس کے موجودہ سربراہ یحییٰ سنوار، قطر میں مقیم حماس کے سیاسی دفتر کے سابق سربراہ خالد مشعال اور لبنان میں مقیم حماس کے مرکزی رہنما علی براکہ شامل ہیں۔امریکا کے اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ حماس کے رہنماؤں نے ایران اور حزب اللہ کی حمایت سے اسرائیل کو تباہ کرنے کی کوشش کی اور وہاں کے شہریوں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی پراسیکیوٹرز نے حماس کے 6 سرکردہ رہنماؤں کے خلاف رواں برس فروری میں ہی فرد جرم عائد کر دی تھی لیکن اسماعیل ہنیہ کی گرفتاری کی امید پر اس رپورٹ کو سیل کر دیا تھا تاہم ایران میں اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد اسرائیل پر لگنے والے الزمات کے باعث امریکی محکمہ انصاف نے اس رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا۔حماس رہنماؤں پر امریکی الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق نئی تجاویز مصری اور قطری حکام کو پیش کر دی ہیں۔بیروت میں امریکن یونیورسٹی کے نامور فیلو رمی خوری کا کہنا ہے کہ واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ امریکا حماس کو اس کے اقدامات پر ذمے دار ٹھہرانا چاہتا ہے لیکن وہ اسرائیل کے خلاف کسی بھی قسم کے اقدامات میں دلچسپی نہیں رکھتا، یہی وجہ ہے کہ دنیا کی نظر میں امریکا ایک ایماندار ثالت کار نہیں رہا کیونکہ وہ اسرائیلی بربریت اور نسل کشی کو سپورٹ کر رہا ہے۔