ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بلوچستان اسمبلی گراکر دوبارہ تعمیر کے فیصلے کیخلاف فیصلہ محفوظ

کوئٹہ (نمائندہ جسارت) بلوچستان اسمبلی کی عمارت گراکر دوبارہ تعمیر کرنے کے فیصلے خلاف دائر درخواست پر بلوچستان ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ بلوچستان کے سینئر وکیل امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ کی درخواست کی سماعت چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس محمد نواز رانا پر مشتمل بینچ نے کی۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی موجودہ حکومت نے صوبائی اسمبلی کی تاریخی عمارت کو گرا کر 5 ارب روپے کی خطیر رقم سے نئی عمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، خیمے کی طرز پر تعمیر تاریخی عمارت کو نواب اکبر بگٹی نے تعمیر کرانے کا فیصلہ کیا تھا، اس کی اپنی تاریخی حیثیت ہے اور یہ صوبے کے بلوچ پشتون روایات اور ثقافت کا بھی آئینہ دار ہے۔ امان اللہ کنرانی نے دلائل دیے کہ آئین کے آرٹیکل 28 کے تحت ثقافتی ورثہ کو تحفظ حاصل ہے، حکومت اس آئینی تقاضے سے روگردانی نہیں کرسکتی۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ بلوچستان اسمبلی نے عمارت کومنہدم کرنے کی منظوری نہیں دی، کابینہ کو بھی اس منصوبے کو اعتماد میں نہیں لیاگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی بغض کی بنیاد پر قابل استعمال ثقافتی ورثا گرانا آئین کے آرٹیکل 28 کی روح کے منافی ہے، منصوبے کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنا وسائل کا ضیاع ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں