ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اِلٰہ آباد ہائی کورٹ مسلمانوں کی املاک بچانے کیلئے میدان میں آگئی

بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر بہرائچ میں 13 اکتوبر کو ایک ہندو نوجوان کے قتل کے بعد سے اب تک مسلم کش فساد کی سازش پر عمل کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ انتہا پسند ہندوؤں کے دباؤ پر اس قتل کیس میں اب تک 87 افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

ہنگامہ آرائی کے بعد مقامی انتظامیہ نے، بظاہر انتہا پسند ہندوؤں کے دباؤ پر، درجنوں مسلمانوں کے مکانات کو منہدم کرنے کا نوٹس جاری کیا اور اس حوالے سے بلڈوزرز بھی مقررہ مقامات پر پہنچادیے گئے مگر اب الٰہ آباد ہائی کورٹ حرکت میں آئی ہے۔

ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ شہر کی صورتِ حال انتہائی نازک ہے۔ ایسے میں کسی ایک کمیونٹی کے مکانات کو نشانہ بنانا انتہائی خطرناک عمل ہے۔ مقامی انتظامیہ اگر یہ سمجھتی تھی کہ یہ مکانات غیر قانونی طور پر بنائے گئے ہیں اور سرکاری زمین کو بلا جواز طور پر استعمال کیا گیا تو اب تک وہ کیا کر رہی تھی۔ یہ کام تو بہت پہلے ہو جانا چاہیے۔

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے کنڈاسر، مہاسی، نان پاڑا اور مہاراج نگر روڈ کے علاقوں میں مسلمانوں کے مکان گرانے کی کارروائی روکنے کے لیے حکمِ امتناع جاری کردیا ہے۔

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے مکانات منہدم کرنے کے نوٹسوں کا جواب داخل کرنے کے لیے مسلمانون کو پندرہ دن کی مہلت دی ہے۔ انتظامیہ کو حکم دیا گیا ہے کہ نوٹسوں کے جواب کا بھرپور جائزہ لے کر ایسے فیصلے کیے جائیں جو معقول ہوں۔

مسلمانوں کے 20 مکانوں کو گرانے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ ان میں عبدالحمید کا مکان بھی شامل ہے جو 20 سالہ رام گوپال شرما کے قتل کے ملزمان میں شامل ہے۔

بہرائچ میں کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں امن پوری طرح بحال نہیں ہوسکا ہے۔ جہاں ہندو اور مسلمان آمنے سامنے رہتے ہیں وہاں کشیدگی بہت زیادہ ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں