ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

شریف حکومت کا بجلی کے بعد ایک اور گیس بم عوام پر گرانے کا فیصلہ،قیمتوں میں 64 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کا امکان

اسلام آباد / کراچی (نمائندہ جسارت،اسٹاف رپورٹر) شریف حکومت کا بجلی کے بعد ایک اور گیس بم عوام پر گرانے کا فیصلہ۔ قیمتوں میں 64 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کا امکان۔تفصیلات کے مطابقسوئی ناردرن نے گیس کی قیمتوں میں 64 روپے 16 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کی درخواست اوگرا میں جمع کروا دی۔سوئی ناردرن نے درخواست میں کہا ہے کہ سوئی ناردرن کو رواں مالی سال کی ضروریات میں20ارب 58کروڑ 20لاکھ روپے کی کمی کا سامنا ہے،مالی ضروریات میں 48 کروڑ 90لاکھ روپے ایل پی جی ایئرمکس پر وجیکٹ کے بھی شامل ہیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ سوئی ناردرن کو گھریلو صارفین کو رواں مالی سال کے دوران آر ایل این جی پر منتقلی کی لاگت163ارب 5کروڑ 80لاکھ روپے لاگت کی مد میں ادا کرنے ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس کی لاگت کو ایچ ایس ایف او اور خام تیل کے نرخوں سے جوڑا گیا ہے۔سوئی ناردرن گیس نے ہر درجے کے صارفین کیلیے یکم جولائی 2024ء سے آر ایل این جی سپلائی لاگت بڑھا کر 1711.73روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔سندھ اوربلوچستان کے لیے گیس 53.47فیصد مہنگی کرنے اور اسلام آباد سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے لیے گیس 3.66 فیصد مہنگی کرنے کی درخواست دی گئی ہے، اس حوالے سے اوگرا نے گیس کمپنیوں کی درخواستوں پرگیس صارفین سے تجاویز مانگ لیں۔اوگرا سوئی ناردرن گیس کمپنی کی درخواست پر 5نومبر کو سماعت جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی درخواست پر اوگرا 8 نومبر کو سماعت کرے گا۔واضح رہے کہ حکومت اس سے قبل بھی گیس اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرچکی ہے ۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں