ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بھارتی کسانوں کا دہلی چلو مارچ پولیس سے جھڑپوں میں 8 زخمی

بھارتی کسان پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں
بھارتی کسان پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی کسانوں نے دہلی چلو تحریک کے سلسلے میں مودی حکومت کے خلاف زبردست مزاحمت کا آغاز کردیا ،جب کہ مودی سرکار اپنے ہی کسان طبقے کوکچلنے میں مصروف ہے۔ ۔ خبررساں اداروں کے مطابق ہریانہ اور پنجاب کے کسانوں کی اپنے حقوق کے لیے تحریک دوبارہ متحرک ہوگئی ہے۔ پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں کی دہلی چلو تحریک دہلی کی جانب روانہ ہوئی۔ دہلی چلومارچ کسان مزدور مورچہ اورکسان یکجہتی مورچہ کے زیر اہتمام ہورہا ہے۔ پنجاب اور ہریانہ کی سرحد پر شمبھو کے مقام کو خاردار تاروں اور کاوٹوں سے مکمل سیل کر دیا گیا ہے۔ کسان مارچ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش میں نیم فوجی دستوں کو تعینات کردیا گیا ہے۔ اس سے قبل ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کسانوں کا حق ہے کہ وہ پر امن احتجاج کریں، دہلی چلو مارچ کو روکنے کے لیے حکام کی جانب سے دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ کسانوں پر تشدد کے لیے ڈرون اور تیز دھار پانی کا استعمال کیا جارہا ہے ۔ پولیس اور مظاہرین کے جھڑپوں میں اب تک 8 کسان شدید زخمی ہوگئے، جب کہ آنسو گیس کے استعمال سے کئی کسانوں کی حالت غیرہوگئی۔ کسانوں کے مارچ کے باعث ریاست ہریانہ کے سرحدی ضلع انبالہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔ احتجاجی مارچ کسانوں کے اتحاد اور مودی سرکار کی زرعی پالیسی میں کی جانے والی ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت کی علامت بناہوا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں