اسلام آباد: شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی میں شرکت کرنی چاہیے تھی تاہم اجلاس میں نہ جانے کا فیصلہ غیر منتخب افراد نے کیا، پارلیمانی کمیٹی میں جانے کا فیصلہ درست تھا جبکہ سیاسی کمیٹی میں شرکت کی ضرورت نہیں تھی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیرافضل مروت نے کہاکہ پی ٹی آئی کو مسلسل مشکلات کا سامنا ہے اور اس صورتحال میں مصالحت کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہو چکا ہے، بیرون ملک سوشل میڈیا پر اجلاس کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ چلنے کے بعد پارٹی نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو بلاول زرداری کی پیشکش قبول کرنی چاہیے کیونکہ انہوں نے فیس سیونگ کا موقع فراہم کیا ہے،اگر پی ٹی آئی بلاول کی آفر قبول کر لے تو موجودہ قیادت کو فیس سیونگ کا موقع ملے گا، بصورتِ دیگر نہ احتجاج ممکن ہوگا اور نہ ہی کوئی دوسرا راستہ بچے گا۔”
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور کا سیاسی کردار ختم ہو چکا ہے اور پی ٹی آئی میں ایسا کوئی نہیں جو احتجاج کے لیے عوام کو باہر نکال سکے،🔹 “مجھے خدشہ ہے کہ علی امین گنڈاپور کی بھی جلد چھٹی ہو جائے گی، جس طرح عثمان بزدار اور محمود خان کو ہٹایا گیا، اسی طرح علی امین بھی زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہیں گے۔”
انہوں نے مزید کہاکہ اگر مجھے پارٹی سے نہ نکالا جاتا تو اب تک علی امین گنڈاپور کی بھی چھٹی ہو چکی ہوتی،علی امین گنڈاپور کو وہی لوگ ہٹائیں گے جو دیگر پارٹی رہنماؤں کو ہٹا رہے ہیں،🔹 “علی امین نہ علیمہ خان اور نہ ہی بشریٰ بی بی کی گڈ بکس میں ہیں اور میں بھی ان کی نظر میں قابلِ قبول نہیں تھا۔