مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل کے غیر قانونی یہودی آبادکاروں پر پیر کی صبح مسلح حملے میں 6 افراد ہلاک اور کم از کم 20 زخمی ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق واقعہ راموت جنکشن پر پیش آیا جہاں دو فلسطینی حملہ آوروں نے بس اسٹاپ پر اندھا دھند فائرنگ کی اور بعد ازاں ایک بھری ہوئی بس میں گھس کر مسافروں کو نشانہ بنایا۔ موقع پر موجود ایک سکیورٹی اہلکار اور ایک عام شہری کی جوابی کارروائی میں دونوں حملہ آور مارے گئے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق دونوں حملہ آوروں کا تعلق مغربی کنارے سے تھا، فائرنگ کے بعد اسرائیلی پولیس اور فوج کے سیکڑوں اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے فائرنگ کے واقعے میں 6 افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور سکیورٹی اداروں کے سربراہان کو ہدایت دی ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اس کارروائی کو غزہ پر قبضے کے خلاف فطری ردعمل‘‘ قرار دیا تاہم اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
اسپین کے وزیراعظم نے اسرائیل کے خلاف سخت اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج کو تیل فراہم کرنے والے ٹینکرز ہسپانوی بندرگاہوں میں داخل نہیں ہوسکیں گے، جبکہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی سے متعلق بل بھی پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
ادھر میکسیکو میں ایک میوزک کنسرٹ کے دوران ایک لاکھ 80 ہزار شرکا نے ’’فری فلسطین‘‘ کے نعرے لگا کر فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
دوسری جانب غزہ میں صیہونی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں مزید 87 فلسطینی شہید اور 409 زخمی ہوگئے ہیں۔
7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں اب تک شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 64 ہزار 368 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہیں۔
غزہ وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں کے باعث زخمیوں کی تعداد 162,776 تک پہنچ گئی ہے۔