ماسکو : روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کاکہنا ہے کہ ماسکو کو مغرب سے کسی قسم کا بدلہ لینے یا غصہ نکالنے کی کوئی خواہش نہیں ہے، اور وہ ممالک جو دوبارہ روس کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں ان کا خیر مقدم کیا جائے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق ماسکو اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ غصہ اور بدلے کی خواہش برے مشیر ہیں، ہم کسی پر بدلہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب ہمارے مغربی سابقہ پارٹنرز ہوش کے ناخن لیں گے اور دوبارہ روس آکر کام کرنا چاہیں گے، تو ہم انہیں رد نہیں کریں گے، یہ ضرور دیکھیں گے کہ کن شرائط پر یہ تعاون ممکن ہوگا تاکہ روسی معیشت کے کلیدی شعبوں کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔
لاوروف کے مطابق روس تمام ممالک کے ساتھ ایمانداری سے بات چیت اور تعاون کے لیے تیار ہے، انہوں نے اس کی مثال 15 اگست کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی الاسکا کے شہر اینکریج میں ہونے والی سربراہی ملاقات کو قرار دیا، یہ ملاقات روس یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد تقریباً ساڑھے تین سال میں کسی روسی اور امریکی رہنما کے درمیان پہلی براہِ راست ملاقات تھی۔
انہوں نے کہا کہ الاسکا سربراہی اجلاس سے یہ بات واضح ہوئی کہ موجودہ امریکی انتظامیہ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ تمام مسائل کو ایک دوسرے کے قومی مفادات کے احترام کی بنیاد پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ یوکرین جنگ کے حوالے سے بھی امریکہ نے اس بات پر زور دیا کہ تنازع کے “بنیادی اسباب کو ختم” کرنا ناگزیر ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ماسکو امریکا سمیت تمام ممالک کے ساتھ مساوی بنیادوں پر تعاون چاہتا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان آرکٹک، مائع قدرتی گیس (LNG)، خلائی تحقیق اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں شراکت داری کے امکانات موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے بھی ان شعبوں میں تعاون کی خواہش ظاہر کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس اور امریکہ کے تعلقات میں نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔