پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم اقدام اٹھایا ہے اور ناقص کارکردگی کے حامل اسپتالوں کو نجی شعبے کے انتظام میں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں 24 اسپتالوں کو آؤٹ سورس کیا جارہا ہے جن میں کٹیگری بی، سی اور ڈی کے اسپتال شامل ہیں۔
صوبائی مشیر صحت احتشام علی نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے کا مقصد عوام کو زیادہ بہتر اور بروقت طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ مریضوں کو علاج سرکاری خرچے پر ہی دستیاب ہوگا اور پرچی کی سرکاری فیس برقرار رکھی جائے گی۔
مشیر صحت نے زور دیا کہ حکومت اسپتالوں کی نجکاری نہیں کررہی بلکہ صرف انتظامی امور کو نجی شعبے کے سپرد کیا جارہا ہے تاکہ سہولیات میں بہتری آسکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسپتالوں میں تعینات سرکاری ملازمین بدستور اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے جبکہ نجی کمپنیاں عملے کی کمی، جدید آلات کی فراہمی اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کی ذمہ دار ہوں گی۔ اس اقدام سے صفائی ستھرائی، او پی ڈی کے بروقت آغاز، طبی عملے کی حاضری اور آلات کی فعالیت جیسے مسائل فوری طور پر حل ہوسکیں گے۔
محکمہ صحت نے اس سلسلے میں مانیٹرنگ کا ایک نظام بھی وضع کیا ہے جس کے تحت آئی ایم یو (انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ) اسپتالوں کی کارکردگی کا جائزہ لے گا۔ اگر کوئی کمپنی معیار پر پورا نہ اتر سکی تو اس کے فنڈز سے کٹوتی کی جائے گی۔
مزید برآں عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ایک مربوط نظام بھی قائم کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو سہولت ملے اور ان کی شکایات کا فوری حل ممکن بنایا جاسکے۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوامی مفاد میں ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف صحت کے شعبے کو فعال اور نتیجہ خیز بنانا ہے۔ اگلے مرحلے میں مزید اسپتالوں کو بھی آؤٹ سورس کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے تاکہ صوبے بھر میں طبی سہولیات کا معیار بہتر سے بہتر بنایا جاسکے۔