جکارتا: انڈونیشیا کی پولیس نے گزشتہ ماہ ملک بھر میں ہونے والے پُرتشدد مظاہروں میں ملوث تقریباً 1,000 افراد کی نشاندہی کر لی ہے،ان میں 295 کم عمر افراد بھی شامل ہیں جنہیں باضابطہ طور پر مشتبہ قرار دیا گیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق نیشنل پولیس کریمنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے سربراہ کمشنر جنرل سیاحر دیانتونو نے کہا کہ 936 افراد کے خلاف کیسز درج کیے گئے ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف اُن لوگوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں جو پُرتشدد کارروائیوں اور ہنگاموں میں ملوث تھے جبکہ پرامن احتجاج کرنے والوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ان مظاہروں کے دوران کم از کم 10 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، ان ہنگاموں کا آغاز اس وقت ہوا جب حکومت کی جانب سے ارکانِ پارلیمان کے الاؤنسز میں اضافے کی تجویز کے خلاف عوامی احتجاج کیا گیا۔
خیال رہےکہ 28 اگست کو جکارتہ میں ایک موٹرسائیکل ٹیکسی ڈرائیور کو بکتر بند پولیس گاڑی نے کچل کر ہلاک کر دیا، اس واقعے کے بعد ملک کے کئی صوبوں میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے۔
جکارتہ میں مشتعل مظاہرین نے پولیس اسٹیشنز اور سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی، درجنوں گاڑیوں کو تباہ کیا، شیشے توڑ دیے اور چوکیاں زمین بوس کر دیں۔ اس دوران پولیس افسران کو پتھراؤ کے ذریعے زخمی بھی کیا گیا۔