لاہور:۔ لاہور ہائیکورٹ بار میں بیرسٹر اعتزاز احسن کی 80 ویں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا۔ چوہدری اعتزاز احسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں جسٹس سرفراز ڈوگر جیسے جج نہیں چاہئیں، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو وکلا سے بدتمیزی کی اجازت نہیںدیں گے، ہمیں وکلاءکو مضبوط ہونا ہوگا، سپریم کورٹ میں پہلے ہی زیادہ تعداد میں جج ہیں، یہ سپریم کورٹ میں 34 جج کرنا چاہتے ہیں جو قبول نہیںہے، ہم اب اس ملک میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی بحالی کے لیے جہدوجہد کریں گے۔
اعتزاز احسن نے کہاکہ بانی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے، بانی پاکستان تحریک انصاف کو فوری رہا کیا جائے، میری جماعت کو بھی سمجھنا چاہئے، ان نور والوں سے کسی کو کوئی شرف حاصل نہیں ہوگا، ظرف یہ ہے کسی میں کوئی برائی نظر آے تو نظرانداز کر دیا جائے، تمام سیاسی جماعتوں کو مل جل کر چلنا ہوگا، سیاسی جماعتوں کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں چلنا چاہئے۔
انہوں نے کہاکہ ہماری اشرافیہ دو فیصد ہے مگر وہ پاکستان کی 70 فیصد دولت کھا جاتی ہے، ہمارا سفر ابھی ختم نہیں ہوا، ہمیں نوجوان وکلا کو عدل کا درس دینا ہوگا، ہم بااصول پانچ ججوں کا ساتھ دیں گے، وکلا تحریک میں ہم ججوں کو کہتے تھے شارٹ کٹ نہ لیں، ہم بحال کروائیں گے، ہمیں تشدد کی سیاست سے بچنا ہوگا، ہمیں اب دوبارہ جذبہ بنانا پڑے گا، اب یہ نہیں ہوسکتا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو اسٹیبلشمنٹ باہر اٹھا پھینکے۔
لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ملک آصف نسوانہ نے کہا کہ بیرسٹر اعتزاز احسن ہماری بار کا مان ہیں، چوہدری اعتزاز احسن نے ہمیشہ جمہوری اصولوں کی پاسداری کی، ملک کے اہم عہدوں پر فائز رہ کر آئین کی بالادستی کیلئے کام کیا، عدلیہ کی بحالی کیلئے اعتزاز احسن کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، پوری لاہور ہائیکورٹ بار اعتزاز احسن کو ان کی سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتی ہے۔