لندن: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔
برطانوی دارالحکومت لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ ان کی واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے بات ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے اور امریکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لیے پاکستان کا رخ کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ملاقات کے دوران توانائی کے شعبے، تیل و گیس کی تلاش اور معدنی وسائل کے منصوبوں پر بھی بات چیت کی گئی۔
پاک بھارت جنگ سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے مزید کہا کہ اگر امریکا بروقت کردار ادا نہ کرتا تو خطے کی صورتحال سنگین ہو سکتی تھی۔ اسی تناظر میں پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا کیونکہ انہوں نے عالمی سطح پر تنازعات کے خاتمے میں مؤثر کردار ادا کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ روایتی جنگ میں برتری حاصل کی اور اقوام متحدہ میں مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے بھرپور آواز اٹھائی۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے ملک کا دفاع ہر محاذ پر ثابت کیا۔
انہوں نے کہا کہ فوج اور حکومت کے درمیان بہترین ہم آہنگی موجود ہے، جو پاکستان کو دنیا میں ابھرتی ہوئی طاقت بنانے میں معاون ہوگی۔
وزیراعظم نے پاکستان اور سعودی عرب کے حالیہ دفاعی معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوگا تو اسے دونوں پر حملہ سمجھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان طاقت کے حصول کی دوڑ میں شامل نہیں بلکہ خوشحالی، زراعت، آئی ٹی اور روزگار کے فروغ پر توجہ دے رہا ہے۔
فلسطین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ اور عرب اجلاسوں میں ہمیشہ مظلوم فلسطینیوں کی بھرپور حمایت کی ہے۔ 2023ء سے جاری غزہ کی تباہی انسانیت کے خلاف بدترین مثال ہے، تاہم انہیں امید ہے کہ اس مسئلے کا پائیدار حل جلد نکلے گا۔
وزیراعظم نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اور سندھ حالیہ سیلابوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں، ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں اور زرعی شعبہ بری طرح متاثر ہوا۔ حکومت ان مشکلات پر قابو پا کر معیشت کو بحال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ نوجوان اگر جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کریں تو پاکستان میں حقیقی انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔