ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ٹرمپ کو نوبل انعام نہ ملنے پر وائٹ ہاؤس کا ردعمل؛ امن پر سیاست کو ترجیح دی گئی

 رواں برس کا نوبیل امن انعام وینزویلا کی جمہوریت پسند اور اپوزیشن رہنما ماریہ کورینا مشادو کے نام رہا، جنہیں ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ، انسانی حقوق کے تحفظ اور آمریت کے خلاف سیاسی جدوجہد کے اعتراف میں یہ عالمی اعزاز دیا گیا۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اس فیصلے نے کئی عالمی حلقوں میں حیرت اور سیاسی ردِعمل کو جنم دیا، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کیمپ میں، جو خود کو اس انعام کا اہل قرار دیتے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق رواں سال نوبیل انعام کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کا نام پاکستان سمیت متعدد ممالک، امریکی کانگریس اراکین اور سماجی رہنماؤں کی جانب سے تجویز کیا گیا تھا۔ ان کے حامیوں کا مؤقف تھا کہ ٹرمپ نے بطور صدر عالمی سطح پر سات تنازعات ختم کرائے اور اب وہ غزہ جنگ میں سیز فائر معاہدے کے ذریعے امن کی کوششوں میں سرگرم ہیں۔

تاہم نوبیل کمیٹی کے اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے سخت ناراضی کا اظہار کیا گیا۔ کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیون چیونگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے دنیا بھر میں امن کے معاہدے کیے، جنگوں کا خاتمہ کیا اور بے شمار جانیں بچائیں، مگر نوبیل کمیٹی نے ایک بار پھر امن کے بجائے سیاسی ایجنڈے کو ترجیح دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ ایک ایسے انسان دوست رہنما ہیں جو اپنی قوتِ ارادی سے پہاڑ ہلا سکتے ہیں، لیکن نوبیل کمیٹی کے فیصلے نے ثابت کردیا کہ انصاف نہیں بلکہ سیاست غالب ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے نوبیل انعام کے انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے ہوں۔ ماضی میں بھی انہوں نے سابق صدر باراک اوباما کو انعام ملنے پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ اوباما نے کچھ کیے بغیر ہی نوبیل انعام حاصل کیا، جب کہ میں نے مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی امن معاہدے کروائے۔

دوسری جانب بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوبیل کمیٹی کا فیصلہ سیاسی تنازعات سے بالاتر ہو کر جمہوری مزاحمت اور عوامی جدوجہد کے اعتراف میں کیا گیا۔ ان کے مطابق ٹرمپ کے سخت بیانات، متنازع پالیسیوں اور داخلی تقسیم کو ہوا دینے والے طرزِ عمل نے انہیں اس اعلیٰ اعزاز سے محروم رکھا، جب کہ ماریہ کورینا کی جدوجہد حقیقی معنوں میں آزادی اور عوامی حقِ حکمرانی کی علامت بن چکی ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • دانیال عدنان

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں