ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پنجاب حکومت نے انتہا پسند جماعت پر پابندی کی سفارش  کردی، اجلاس میں اہم فیصلے

لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے میں ریاستی رِٹ کے قیام اور امن و امان کی بحالی کے لیے غیر معمولی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے انتہا پسند مذہبی جماعت پر پابندی کی سفارش وفاقی حکومت کو بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

یہ فیصلہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے  اجلاس میں کیا گیا، جس میں صوبائی وزرا، اعلیٰ افسران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں طے پایا کہ صوبے میں نفرت انگیز تقاریر، اشتعال انگیزی اور قانون شکنی کے واقعات پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ جن عناصر نے حالیہ واقعات میں پولیس افسران کی شہادت یا سرکاری املاک کی تباہی میں کردار ادا کیا، ان کے خلاف دہشت گردی کی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں گے۔

انتہا پسند جماعت کی قیادت کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (فورتھ شیڈول) میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جبکہ ان کی جائیدادیں، فنڈز اور ادارے محکمہ اوقاف کے حوالے کیے جائیں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ جماعت کے بینک اکاؤنٹس منجمد، سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند، اور پوسٹرز، بینرز، اشتہارات پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔

اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور کسی بھی شخص یا تنظیم کو نفرت یا تشدد پر اکسانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق یہ اقدامات صوبے میں امن کے قیام اور ریاستی رِٹ کی بحالی کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوں گے، جس کے تحت قانون شکن عناصر کو مثالی سزائیں دینے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں