امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ممکنہ ملاقات سے قبل وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے ایک جملے نے میڈیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔
چند روز قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا جس میں یوکرین جنگ بندی سمیت مختلف عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ہنگری کے دارالحکومت بوداپیسٹ میں ملاقات پر اتفاق کیا گیا۔
تاہم ایک پریس کانفرنس کے دوران جب ایک صحافی نے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ سے پوچھا کہ “بوداپیسٹ میں ملاقات کا فیصلہ کس نے کیا؟” تو انہوں نے نہایت غصے اور طنزیہ انداز میں جواب دیا “آپ کی ماں نے!”
اس غیر متوقع جواب پر ہال میں خاموشی چھا گئی اور سوشل میڈیا پر بھی یہ جملہ تیزی سے وائرل ہوگیا۔ جب ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ جواب مزاحیہ انداز میں دیا گیا تھا، تو کیرولین نے کہا، “میں نے مذاق میں کہا کیونکہ آپ جیسے لوگ خود کو صحافی کہتے ہیں مگر کوئی آپ کو سنجیدگی سے نہیں لیتا، اپنے فضول سوالات بند کریں۔”
ترجمان کے اس رویے پر صحافتی حلقوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے عہدے پر بیٹھے کسی شخص سے ایسے غیر مہذب الفاظ کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ دوسری جانب، ٹرمپ کے حامی اس بیان کو “کھری بات” قرار دے رہے ہیں۔