ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کسٹم کلیئرنس میں تاخیر،پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کاخدشہ

کراچی:کسٹم کلیئرنس میں تاخیر کے باعث ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی پورٹ پر کسٹم کلیئرنس میں تاخیر سندھ حکومت کی جانب سے سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے نفاذ کے بعد سامنے آئی جس کی وجہ سے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا خدشہ ہے، اس سلسلے میں آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے وزیرِاعلیٰ سندھ مرزد علی شاہ کو ایک ہنگامی خط لکھ دیا۔

کونسل نے خط میں آگاہ کیا ہے کہ پی ایس او کے آئل ٹینکرز ’ایم ٹی اسلام 2‘ اور ’ایم ٹی حنیفہ‘ برتھ پر موجود ہیں لیکن کلیئرنس نہ ملنے کے باعث تاحال ڈسچارج نہیں ہوسکے، کیماڑی میں تیل کے ذخائر ختم ہونے کے قریب ہیں جس کی وجہ سے کے پی ٹی پر موجود جہازوں کو بھی فوری کلیئرنس کی ضرورت ہے۔

 پیٹرولیم مصنوعات کے کارگو اور بندرگاہ پر کھڑے جہازوں کو فوری کسٹم کلیئرنس نہ ملی تو ملک بھر میں سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسٹم کلیئرنس میں مزید تاخیر سے ملک بھر میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر مصنوعات کی ترسیل متاثر ہوگی۔

 21 اکتوبر کو کے پی ٹی پر پہنچنے والے پارکو کے کروڈ کارگو سمیت وافی انرجی کے پیٹرولیم کارگو کو بھی تاحال کلیئرنس نہیں ملی، جس سے بحران بڑھنے کا خدشہ ہے، سیس کے 1.8 فیصد نفاذ سے ڈاو ¿ن سٹریم پیٹرولیم انڈسٹری کو شدید مالی و آپریشنل مشکلات کا سامنا ہے، اس سے قیمتوں میں بھی کم از کم 3 روپے فی لیٹر اضافہ ہوسکتا ہے۔

آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے خبردار کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر نیا سیس بالآخر عوام پر اضافی بوجھ بنے گا، زرعی سیزن کے دوران سپلائی متاثر ہونے سے ملک گیر قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس کے باعث وزیرِ اعلیٰ سندھ سے معاملے پر فوری نوٹس لینے اور کسٹم کلیئرنس عمل کو تیز کرنے کی اپیل کی جاتی ہے تاکہ ممکنہ بحران سے بچا جا سکے کیوں کہ اگر مسئلہ برقرار رہا تو سپلائی بحال ہونے میں دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • Faiz alam babar

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں