ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

برطانیہ میں مساجد کی حفاظت کے لیے حکومت کا بڑا اقدام؛ مسلمانوں کے دل جیت لیے

برطانیہ میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے واقعات اور مساجد پر حملوں کے بعد حکومت نے مسلمانوں کے تحفظ کے لیے ایک اہم اور تاریخی اقدام اٹھایا ہے، جسے ملکی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ مساجد اور اسلامی مراکز پر نفرت انگیز حملوں میں اضافے کے پیش نظر حکومت 10 ملین پاؤنڈ کی اضافی فنڈنگ فراہم کرے گی تاکہ ان کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

یہ اعلان وزیرِ اعظم نے وزیرِ داخلہ شبانہ محمود کے ہمراہ مشرقی سسیکس کی ایک مسجد کے دورے کے دوران کیا، جہاں رواں ماہ کے آغاز میں ایک شخص نے مسجد کے دروازے کے قریب گاڑی کو آگ لگا دی تھی۔ اس واقعے کے بعد برطانوی مسلم کمیونٹی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔

اس موقع پر کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ ایک کثیرالثقافتی ملک ہے اور اسے اپنی رواداری، یکجہتی اور تنوع پر فخر ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی مذہبی یا نسلی کمیونٹی پر حملہ دراصل برطانوی معاشرتی اقدار پر حملہ ہے، جسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ فنڈنگ صرف مالی معاونت نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ برطانیہ کے مسلمان شہری محفوظ، باعزت اور معاشرے کے لازمی حصہ ہیں۔

وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے بھی کہا کہ حکومت مساجد کی نگرانی، حفاظتی کیمروں، داخلی راستوں اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرے گی تاکہ ایسے واقعات کو آئندہ روکا جا سکے۔ انہوں نے حملے کو خوفناک جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان سے بچا گیا، تاہم اس واقعے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • مقصود بھٹی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں