تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے 200 فیصد امکانات ہیں، اگر ان کے مقدمات میرٹ پر چلائے جائیں تو وہ ایک دن بھی جیل میں نہیں رہیں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیشتر مقدمات میں ضمانتیں ہو چکی ہیں اور لیگل گراؤنڈز پر ایسا کچھ نہیں کہ وہ مزید جیل میں رہیں ، تمام کیسز میں انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں تو بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر رہا ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے حوالے سے پارٹی نے تمام جماعتوں سے بات چیت کی ہے، اور پارٹی کے تمام اراکینِ اسمبلی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی عوام کو متحرک کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے پارٹی کی سرگرمیاں ایک نئے انداز میں سامنے آئیں گی۔
اسد قیصر نے واضح کیا کہ نومبر میں کسی احتجاجی تحریک کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں، البتہ بانی پی ٹی آئی نے تحریک کی ذمہ داری محمود اچکزئی کو سونپی ہے، پارٹی عوامی جلسوں کے ذریعے سیاسی سرگرمیوں کو متحرک کرے گی اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے بھرپور مزاحمت جاری رکھے گی۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہماری جماعت واحد سیاسی قوت ہے جو نچلی سطح تک عوام میں موجود ہے، ہمیں صرف لیول پلیئنگ فیلڈ دی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں تاکہ عوامی اعتماد کا اندازہ لگایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کو بلدیاتی انتخابات سے فرار حاصل ہے، ہم چیلنج دیتے ہیں کہ ن لیگ ایک سیٹ جیت کر دکھائے۔ اگر وہ دوبارہ عام انتخابات میں 10 سیٹیں بھی جیت جائے تو ہم سیاست چھوڑ دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ اب کسی الیکشن کے موڈ میں نہیں، ان کے پاس عوام کے پاس جانے کے لیے کوئی بیانیہ نہیں بچا،نواز شریف ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھول گئے ہیں، ہم تیار ہیں کہ اسی بیانیے پر بات کریں لیکن حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف نے اپنی سیاست پر سمجھوتہ کر لیا ہے، ان کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بنی گالہ منتقلی کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی، منتقلی کے لیے کسی درخواست کی ضرورت نہیں، یہ حکومت کی صوابدید ہے، نہیں معلوم بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے امکانات کے حوالے سے تحریک انصاف کتنی سنجیدہ ہے۔