بیجنگ: چین کی سرکاری تیل کمپنیوں نے امریکی پابندیوں کے بعد روسی خام تیل کی خریداری عارضی طور پر معطل کر دی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں میں نئی بے یقینی پیدا ہو گئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، روس کی دو بڑی توانائی کمپنیوں پر واشنگٹن کی جانب سے پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد چین کی سرکاری کمپنیوں نے روسی خام تیل کے نئے معاہدوں پر عمل روک دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، پابندیوں کے خدشے کے پیشِ نظر چینی بینک بھی روس سے منسلک مالی لین دین میں محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
اسی طرح بھارت کی آئل ریفائنریز نے بھی روسی تیل کی درآمد میں بتدریج کمی لانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ماہرین کے مطابق، بھارت اور چین روسی تیل کے سب سے بڑے خریدار رہے ہیں اور ان دونوں ممالک کی جانب سے خریداری میں کمی روس کی برآمدی آمدنی پر نمایاں دباؤ ڈال سکتی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت یوکرین جنگ کے تناظر میں روس پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا حصہ ہے، جس کے روسی معیشت پر طویل المدتی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔